جسمانی معذوری شکست نہ دے سکی،پاکستانی بیٹی کا اسپین میں شاندار کارنامہ

جسمانی معذوری شکست نہ دے سکی،پاکستانی بیٹی کا  اسپین میں شاندار کارنامہ

پاکستانی نوجوان خاتون فاطمہ عمران نے اپنی جسمانی مشکلات کو راستے کی رکاوٹ بننے نہیں دیا اور اسپین میں کامیاب وکیل کے طور پر اپنی شناخت بنا لی۔

26 سالہ فاطمہ عمران پیدائشی طور پر بازوؤں اور ٹانگوں کی شدید جسمانی معذوری کا سامنا کرتی ہیں، تاہم ان کے عزم، محنت اور تعلیم نے انہیں ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی تک پہنچا دیا۔

فاطمہ کے والدین انہیں 12 سال کی عمر میں پاکستان سے اسپین لے گئے، جہاں انہیں شمولیت پر مبنی تعلیمی نظام اور بہتر سہولیات میسر آئیں۔ خاندان نے بھی ان کی تعلیم اور زندگی کے ہر مرحلے میں بھرپور ساتھ دیا۔ والدین اور بھائی نے فاطمہ کی وہیل چیئر سے لے کر تعلیم تک ہر معاملے میں ان کی مدد کی اور انہیں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے مسلسل حوصلہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں :ایزی پیسہ کی سروس چارجز سے متعلق وضاحت آگئی

تعلیم مکمل کرنے کے بعد فاطمہ نے قانون کے شعبے میں قدم رکھا اور اب 26 سال کی عمر میں اسپین کی ایک معروف کمپنی میں بطور وکیل خدمات انجام دے رہی ہیں۔ فاطمہ کا کام اسپین میں مقیم تارکین وطن کو قانونی معاونت فراہم کرنا اور انہیں ملک میں آبادکاری سے متعلق قانونی معاملات میں رہنمائی دینا ہے۔

اگرچہ فاطمہ اپنی جسمانی معذوری کے باعث کچھ کام خود انجام نہیں دے سکتیں، لیکن عدالت یا اہم میٹنگ میں جب وہ اپنے قانونی دلائل پیش کرتی ہیں تو ان کی قابلیت اور تیاری سب کی توجہ حاصل کرلیتی ہے۔

فاطمہ عمران کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ جسمانی مشکلات کسی انسان کی صلاحیت، تعلیم اور خوابوں کی راہ میں حتمی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔

ان کی جدوجہد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں معذور افراد اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے حوصلے اور امید کا پیغام ہے۔

editor

Related Articles