حکومت کا سید پور گاؤں کو بین الاقوامی معیار کا سیاحتی اور تجارتی مرکز میں بدلنے کا فیصلہ

حکومت کا سید پور گاؤں کو بین الاقوامی معیار کا سیاحتی اور تجارتی مرکز میں بدلنے کا فیصلہ

وزیر داخلہ محسن نقوی نےکہا ہے کہ اسلام آباد سید پور گاؤں کو ایک بین الاقوامی معیار کا سیاحتی اور تجارتی مرکز بنایا جائے گا، جو سیاحت اور سیاحوں کو جدید سہولیات فراہم کرے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر سید پور ماڈل ولیج اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ کئی عمارتیں، بغیر کرایہ کے برسوں سے قابض تھیں، انکو بھی خالی کر ا لیا گیا ہے۔ 2005 کے بعد 360 کنال اراضی پر کھڑی کی گئی تمام غیر مجاز تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسداد تجاوزات مہم کے ساتھ ساتھ علاقے میں جاری اپ گریڈیشن اور بیوٹیفکیشن کے کاموں کا جائزہ لینے کے لیے خود سید پور ماڈل ولیج کا دورہ کیا۔

انہوں نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ڈسٹرکٹ میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے) کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ بلا تفریق تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں اور اس بات پر زور دیا کہ خالی کی گئی جائیدادوں کی نیلامی شفاف طریقے سے کی جائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی اور لاہور کے معروف ریستوراں جلد ہی سید پور ولیج میں متعارف کرائے جائیں گے تاکہ اس کی دلکشی میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ سید پور کی بحالی اسلام آباد کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گی اور شہریوں کو ایک نئی تفریحی منزل فراہم کرے گی۔

وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سید پور کو بین الاقوامی معیار کا سیاحتی اور تجارتی مرکز بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جو سیاحوں کو جدید سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے سی ڈی اے اور ڈی ایم اے حکام کو گاؤں اور اطراف میں صفائی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو بتایا کہ 2005 کے بعد غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی تعمیرات کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ امیجری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سید پور ولیج کے گرین کور ایریا کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے کے سینئر ممبران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (اے ڈی سی جی)، ایس ایس پی آپریشنز اور دیگر متعلقہ حکام دورے کے دوران موجود تھے۔

editor

Related Articles