سیلاب کے معاشی اثرات کو آئی ایم ایف جائزے میں شامل کیا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ

سیلاب کے معاشی اثرات کو آئی ایم ایف جائزے میں شامل کیا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی، وزیراعظم نے سیلاب کے پاکستانی معیشت پر اثرات کو آئی ایم ایف جائزے میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت میں تعاون مزید مستحکم ہوا ہے۔

انہوں نے مالی سال 2024 میں 3 بلین ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ، بعد ازاں 7 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) اور 1.4 بلین ڈالر کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (RSF) کے بروقت انتظام پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم کی صدر ورلڈ بینک سے ملاقات، ترقیاتی شراکت داری پر تبادلہ خیال

وزیراعظم کاکہنا تھا کہ پختہ عزم کے ساتھ کی جانے والی پائیدار اصلاحات کی بدولت پاکستان کی معیشت استحکام کے مثبت آثار دکھا رہی ہے اور اب بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف اور وعدوں پر مسلسل پیش رفت کر رہا ہے تاہم حالیہ سیلاب کے معاشی اثرات کو بھی جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر ٹرمپ عالمی امن کے داعی ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے وزیراعظم کے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں پر عمل درآمد کے عزم کو سراہتے  یقین دہانی کرائی کہ آئی ایم ایف پاکستان کی طویل مدتی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں مسلسل تعاون کرے گا۔

قبل ازیں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے  ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے ملاقات ہوئی جس میں اصلاحاتی ایجنڈے اور ترقیاتی شراکت داری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

editor

Related Articles