وزیرِاعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات

وزیرِاعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے آج نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کی۔

تفصیلات کے مطابق اس خوشگوار اور دوستانہ ملاقات میں وزیرِاعظم نے کثیرالجہتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا، اور اس امر پر زور دیا کہ دنیا کے سب سے بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیرِاعظم نے بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ کے لیے سیکرٹری جنرل کی شاندار قیادت کو سراہا، نیز ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مزید مؤثر بنانے میں اقوام متحدہ کے کردار کو اہم قرار دیا۔

وزیرِاعظم نے حالیہ تباہ کن سیلابوں کے دوران حکومتِ پاکستان کی امدادی اور بحالی کی کوششوں کو سراہنے پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مزید موسمیاتی مالی وسائل کی فراہمی سمیت عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو شدید موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں جیسے کہ پاکستان۔

وزیرِاعظم نے پاکستان کے اہم قومی اور علاقائی مسائل اجاگر کیے، جن میں جموں و کشمیر تنازعہ، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، اور پاکستان میں بیرونی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پرامن حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔ وزیرِاعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے میں سیکرٹری جنرل کی قیادت اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

غزہ کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور ایک سیاسی عمل کے آغاز کے ذریعے ناقابلِ واپسی فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

وزیرِاعظم نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مؤثر آواز اور اس کے اہم کردار کو سراہا، بالخصوص سلامتی کونسل میں اس کے اصولی مؤقف کو قابلِ تعریف قرار دیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عالمی امن و ترقی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے ناگزیر کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں۔

editor

Related Articles