بھارت کے مختلف علاقوں میں شدت پسند مودی حکومت کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج جاری ہے، جہاں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات نے ایک بار پھر ہندو مسلم کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
خاص طور پر 4 ستمبر کو کانپور سے شروع ہونے والے مذہبی فسادات نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
مودی حکومت کے حامی ہندوتوا نظریے پر مبنی پالیسیوں کو بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں نے ظلم و جبر کی علامت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مسلمانوں نے کھلے الفاظ میں حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اگر کوئی گستاخی کرے گا تو ہندوستان میں دوسری کربلا دیکھنے کو ملے گی”۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اپنی حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کریں گے۔
بھارتی مسلمانوں نے مزید کہا کہ اگر نیپال میں عوام 15 دنوں میں حکومت بدل سکتے ہیں تو بھارت کے 25 کروڑ مسلمان صرف 5 سے 6 دنوں میں ملک کی صورتحال بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مساجد کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہزاروں مساجد موجود ہیں جنہیں توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ جتنی چاہیں نئی مساجد بنا سکتے ہیں۔
حالیہ فسادات اور ریاستی جبر کے تناظر میں مودی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی اور ظلم کو فروغ دیا ہے، اور انتہاپسند نظریات کو سرکاری سطح پر بڑھاوا دیا ہے۔ بھارت کی مختلف اقلیتیں، خاص طور پر مسلمان، ہندوتوا نظریے کی وجہ سے روز بروز سخت مشکلات اور تشویش میں مبتلا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی شدت پسندی اور انتہاپسندی نہ صرف بھارت کے آئندہ کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ خطے کی سلامتی اور اتحاد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی مسلمانوں کے احتجاجی بیانات اور مظاہروں نے ملک میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور مساوات کے مسائل کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔