وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو’مین آف دی پیس‘ قرار دیدیا، دوبارہ امن کا نوبل انعام دینے کی تجویز

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو’مین آف دی پیس‘ قرار دیدیا، دوبارہ امن کا نوبل انعام دینے کی تجویز

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مین آف دی پیس‘ کا خطاب دیتے ہوئے ایک بار پھر امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا اعلان غزہ امن معاہدے پر دستخطوں کے بعد منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے

وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور انتھک کوششوں نے دنیا بھر میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، خصوصاً جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں، جہاں ان کی مداخلت سے کئی خطرناک تنازعات ٹل گئے۔

اگر ٹرمپ نہ ہوتے تو جنوبی ایشیا میں قیامت برپا ہو جاتی

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی گفتگو میں اس تاریخی موقع کا حوالہ دیا جب پاکستان اور بھارت، جو دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، ایک خطرناک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’4 روزہ جنگ اگر امریکی صدر کی مداخلت سے نہ روکی جاتی تو ایسی تباہی پھیلتی کہ کوئی یہاں یہ بتانے کے لیے موجود نہ ہوتا کہ وہاں کیا ہوا۔ صدر ٹرمپ کی بروقت سفارتی کوششوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں‘۔

غزہ امن معاہدہ، عالمی قیادت کی کوششیں

واضح رہے کہ یہ پریس کانفرنس اس وقت منعقد ہوئی جب غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کئی دہائیوں پر محیط خونریز کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، قطر کے امیر، اردن کے شاہ عبداللہ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات اور مصر کے صدور سمیت کئی عالمی رہنما موجود تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف یہاں موجود ہیں لیکن میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل یہاں نہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے اس عمل میں امن کے داعی کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہے‘۔

دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے، شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ امریکی صدر نے دنیا بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے دن رات کام کیا۔ ان کی قیادت بے مثال اور دور اندیش ہے اور آج کی دنیا کو ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں دوبارہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے حقدار ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی کوششوں سے دنیا بھر میں 8 مختلف جنگیں روکی گئیں، جن میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقی خطے کے تنازعات شامل ہیں۔

علاقائی قیادت کا شکریہ

وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے امیر قطر، سعودی ولی عہد، اردن کے شاہ عبداللہ، متحدہ عرب امارات اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی مشترکہ حکمت عملی نے ایک دیرینہ مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد دی۔

ٹرمپ کی طرف سے ردِ عمل

صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پرخلوص باتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت امن کے ساتھ رہیں۔

’میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا حامی ہوں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے‘۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے اس تازہ ترین غزہ امن معاہدے کو بین الاقوامی برادری ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے ان کی دوسری بار نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کے لیے امریکا کے کردار کو تسلیم کرتا ہے، باوجود اس کے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔

یہ پیشرفت نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی ایک مثبت رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ماضی قریب میں خطرناک تنازعات دیکھے گئے۔

Related Articles