پاکستان نے بنگلا دیش کو بڑی پیش کش کردی

پاکستان نے بنگلا دیش کو بڑی پیش کش کردی

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان معاشی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت پاکستان نے بنگلا دیش کو کراچی پورٹ استعمال کرنے کی پیش کش کی ہے۔

پاک بنگلادیش نواں مشترکہ اقتصادی کمیشن (جوائنٹ اکنامک کمیشن) کا اجلاس  20 سال بعد منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور بنگلادیش کے مشیرِ خزانہ ڈاکٹر صالح نے مشترکہ طور پر کی۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلادیشی ٹیم کا دورہ پاکستان ایک مرتبہ پھر غیر یقینی کا شکار

اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنی قومی شپنگ کارپوریشنز کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے۔

اعلامیے کے مطابق کراچی بندرگاہ کے ذریعے بنگلادیش، چین، وسطی ایشیائی ممالک سمیت خطے کے دیگر ملکوں سے تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے کام تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا، تاکہ عوامی روابط اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔

اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان حلال اتھارٹی اور بنگلادیش اسٹینڈرڈ اینڈ ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ کے درمیان ‘حلال ٹریڈ’ کے معاہدے (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت حلال مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن میں تعاون بڑھانے کا نیا راستہ ہموار ہوگا۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور بنگلا دیش میں 5 سالہ ویزا فری سہولت کا معاہدہ

اجلاس میں ‘پاکستان بنگلادیش نالج کوریڈور’ کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت بنگلا دیشی طلبا کے لیے 500 نئی فنڈڈ اسکالرشپس کی تجویز دی گئی، جبکہ ‘پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام’ کے تحت تربیتی نشستوں کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کر دی گئی۔

دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ زراعت، ٹرانسپورٹ، تعلیم، بینکنگ، صحت، سیاحت، اطلاعات و نشریات، اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی اشتراکِ عمل پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

طبی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی باہمی تعاون پر اتفاق

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ ‘پاکستان بنگلادیش کی مہمان نوازی پر شکر گزار ہے، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، دوستی اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہیں’۔

اجلاس کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور بنگلادیش معاشی، تعلیمی اور ثقافتی میدانوں میں نئی شراکت داری کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

Related Articles