خیبر پختونخوا میں 17 اور 18 نومبر 2025 کو بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج کے چار خوارج مختلف جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کارروائیوں کو ملکی انسداد دہشت گردی مہم کے تحت کامیابی سے انجام دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس پر مبنی ایک آپریشن کیا گیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے پر موثر کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خوارج ہلاک کر دیا گیا۔
اسی طرح شمالی وزیرستان کے اضلاع اسپن وام اور ذاکر خیل کے عام علاقوں میں کیے گئے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز میں دو مزید خوارج ہلاک ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں بھی ایک اور خوارج کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جسے فورسز نے کامیابی سے نیوٹرلائز کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک شدہ خوارج سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو ان علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں دیگر بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ یہ آپریشن وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور شدہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” کے وژن کے مطابق جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور انداز میں سرگرم ہیں۔