آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، ایرانی وزیرخارجہ

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، ایرانی وزیرخارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مخصوص شرائط پوری ہونے اور مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ  نے کہا کہ تہران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی فریق کو قطر کے ذریعے امن تجویز بھیجی تھی ، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران ابھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے، ایران کی تجویز کے تحت معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 7 روزہ عمل اور خطے میں لڑائی روکنے کی بات کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر تہران اپنے حقوق، بشمول یورینیم افزودگی سے دستبردار نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : جنگ کے خاتمے و آبنائے ہرمز کھولنے کا 7 روزہ پلان امریکا کو پیش کر دیا، عباس عراقچی

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کو شبہ ہے کہ ایران ان کے مطالبات پورے نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دباؤ کے باوجود عوام ساتھ ہے، ایران کو تباہ کرنے سے متعلق امریکی صدر کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں، مسعود پزشکیان

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے،  حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران اس راستے سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی پر بھی دباؤ بڑھا ہے

editor

Related Articles