دھاندلی الزامات بے بنیاد، مخصوص عناصرضمنی انتخابات متنازع بنانا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن

دھاندلی الزامات بے بنیاد، مخصوص عناصرضمنی انتخابات متنازع بنانا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور میں حالیہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ایسے الزامات کے ذریعے مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی طرف سے حلقہ این اے 18  کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ‘ضمنی انتخابات شفاف اور قانونی قواعد و ضوابط کے تحت منعقد ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب میں دھاندلی کا الزام، خیبر پختونخوا حکومت کا اپنی ہی انتظامیہ کے خلاف بڑا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ افسران (آر اوز) کی تعیناتی قانونی اختیار کے تحت کی گئی اور انتخابات میں کسی بھی قسم کی دھاندلی یا غیر قانونی مداخلت کے شواہد نہیں ملے‘۔

ترجمان نے کہا کہ ’عام انتخابات میں عملے کی کمی کے باعث آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی محدود ہوتی ہے، تاہم ضمنی انتخابات میں ضرورت کے مطابق تمام افسران کی تعیناتی کی گئی۔ ووٹنگ ڈے سے پہلے کسی جماعت نے آر اوز اور ڈی آر اوز پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، اور اب جو الزامات لگائے جا رہے ہیں، وہ انتخابی عمل میں ہار کے بعد کی گئی مہم کا حصہ ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’میڈیا پر اس طرح کے الزامات لگانا مناسب نہیں، اس کے لیے واضح فورم الیکشن ٹربیونل ہے۔ اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ فارم 45 اور 47 سے متعلق الزامات کہ وہ پہلے سے تیار کیے گئے تھے، بالکل جھوٹ پر مبنی ہیں، عملہ صوبائی انتظامیہ کی نگرانی میں اور پریزائیڈنگ افسران کی موجودگی میں نتائج جمع کر رہا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں:ہری پور: این اے 18 ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان کامیاب

ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’خیبرپختونخوا میں وفاقی ملازمین کو متعین کرنا ممکن تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ پولنگ بیگز اور نتائج صوبائی عملے اور آر اوز کی موجودگی میں محفوظ طریقے سے جمع کیے گئے۔ سیکیورٹی بھی مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی‘۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ’ہر انتخابات کے بعد ایک جیسے بے بنیاد الزامات لگانے کا مقصد انتخابی عمل کو مشکوک بنانا ہے، اور یہ کام میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ قانونی فورمز جیسے الیکشن ٹربیونل میں ہونا چاہیے‘۔

مزید پڑھیں:ضمنی انتخابات نتائج مکمل، پی ٹی آئی اپنے حلقوں میں مسترد، ن لیگ 12 نشستوں پر کامیاب، پیپلز پارٹی بھی ایک سیٹ لے اڑی

کمیشن نے عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ نتائج کا احترام کریں اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ دعوے سے اعتمادِ عامہ کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ہری پور کے ضمنی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کمیشن نے مقامی عملے اور سیکیورٹی اداروں کو ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور پرامن ہوں۔

Related Articles