بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک ملین سے زاید جعلی ڈگریاں دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت میں 11 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق ریاست کیرالہ میں شہری انتظامیہ نے یونیورسٹی کی ڈگریاں اور دیگر اسناد بنانے والا نیٹ ورک پکڑ لیا ہے، جہاں11 ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق 100 سے زاید جعلی دستاویزات اور مہریں بھی برآمد کر لیں ہیں جبکہ مقامی پریس سے جعلی سرٹیفکیٹ چھاپنے کا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق ملزمان 28 جامعات کی جعلی ڈگری اور مارک شیٹ تیار کرتے تھے۔ ملزمان میں10 مفرور افراد بھی شامل ہیں جن کا غیرقانونی کاروبار سے منسلک ہونے کا امکان ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ مذکورہ سرگرمیوں کا ریاستی سطح پر تحقیقات جاری ہے، جہاںکئی اہم شواہد پولیس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
بھارتی ریاست کیرالا کی پولیس نے جعلی یونیورسٹی ڈگریاں اور غیر ملکی اسناد تیار کرنے اور ملک گیر نیٹ ورک پکڑلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں سے 11 افراد کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ ملک بھر میں مبینہ طور پر 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی سرٹیفکیٹس فراہم کر چکا ہے۔
اس گینگ کے سرغنہ دھنیش عرف ڈینی پر پولیس نے پہلی بار 2013 میں جعلی سرٹیفکیٹس فروخت کرنے کے الزام میں کارروائی کی تھی۔ سزا کاٹنے کے بعد اس نے دوبارہ اپنا نیٹ ورک قائم کیا جس میں مختلف ریاستوں میں موجود ایجنٹس شامل تھے۔
دھنیش نے پولّچی میں خفیہ پرنٹنگ پریس قائم کی جہاں پہلے معروف یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹس چھاپے جاتے پھر ان میں امیدواروں کی تفصیلات شامل کی جاتیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں جعلی ای چالان میسیجز کے ذریعے فراڈ، سیف سٹی نے شہریوں کو خبردار کردیا

