پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف دو روزہ سرکاری دورے پر مملکتِ مراکش پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا پرتپاک اور باوقار استقبال کیا گیا۔یہ دورہ 12 سے 14 جنوری تک جاری رہے گا اور اسے پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ دفاع کی آمد دونوں برادر ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ایک سنجیدہ سفارتی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
کاسابلانکا ایئرپورٹ پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا استقبال مراکشی فوج کے سینئر افسر میجر جنرل احمد حطوطو، کمانڈر کاسابلانکا آرمی، اعلیٰ سرکاری حکام اور مراکش میں پاکستان کے سفیر سید عادل گیلانی نے کیا ۔
وزیرِ دفاع کے اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو باضابطہ اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں، یہ ایم او یو دفاعی تربیت، عسکری تبادلے، تکنیکی تعاون اور سکیورٹی سے متعلق مشترکہ امور میں تعاون کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وزیرِ دفاع مراکشی قیادت اور دفاعی حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور دفاعی صنعت میں ممکنہ شراکت داری جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ ملاقاتیں نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط کریں گی بلکہ پاکستان اور مراکش کے مشترکہ مفادات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی اور علاقائی سطح پر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے اور مسلم دنیا کے ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی فعال دفاعی سفارت کاری کی عکاسی کرتے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی جہت اختیار کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا مراکش کا یہ دورہ پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔