پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز (Special Committee on Peacekeeping Operations – C34) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم یہ مشنز بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے لیے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔
سفیر عاصم نے پاکستان کے امن مشنز میں طویل اور نمایاں کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کی میزبانی کر رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے، اور اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سفیر نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بعض مشنز کی منتقلی یا اختتام عمل میں آیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی اور بلند سطح کے تنازعات کے باوجود ایک دہائی سے زائد عرصے میں کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا۔ غیر اقوامِ متحدہ اور عارضی نوعیت کے مشنز کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مشنز کی ضرورت برقرار ہے۔ اصل مسئلہ مطابقت کا نہیں بلکہ عزم اور اجتماعی سیاسی ارادے کا ہے۔
انہوں نے امن مشنز کی امتیازی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی حیثیت عالمگیر شمولیت، باقاعدہ اور قابلِ پیشگوئی مالی نظام، اور مستحکم ادارہ جاتی ڈھانچوں — بشمول کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور احتسابی نظام — سے حاصل ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، اور ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جا رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے منظور شدہ مینڈیٹس کو متناسب اور قابلِ پیشگوئی وسائل سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، تاکہ فنڈنگ پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مالی وعدے کمزور پڑنے اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر مشنز محدود رہنے کی صورت میں امن مشنز کے لیے دستے فراہم کرنے والے ممالک کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے، جس میں اسٹینڈ بائی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیت اور خصوصی یونٹس شامل ہیں۔
سفیر عاصم نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے، جس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام، اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔