وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے ملاقات کی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرائے دفاع، تجارت، قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مواصلات، بحری امور اور پیٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کویتی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امیرِ کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مشترکہ اقدار اور باہمی اعتماد پر مبنی دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک نے ہر مشکل اور ہر خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کویت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور جاری تنازع کے دوران کویت اور دیگر برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک دیانت دار اور مخلص ثالث و سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور ان سفارتی کوششوں کی حمایت پر کویتی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور کویت کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری امور اور افرادی قوت کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کویت میں مقیم پاکستانی برادری کی میزبانی پر کویتی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کویت کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے وزیراعظم کو کویتی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے موجودہ علاقائی بحران کے حل، امن کی بحالی اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے مشکل حالات میں کویت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت اور قریبی روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مستقبل قریب میں اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ کیا جائے گا۔