صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے تمام قومی اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے، اپنے ہاتھ بھی مضبوط کریں گے اور ملک کو مزید مستحکم بنائیں گے۔
سندھ کے شہر مورو میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی رہائش گاہ پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو معاشی خودمختاری فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زراعت میں نئی ٹیکنالوجی کا فروغ ناگزیر ہے جس سے پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
صدر مملکت نے بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو عالمی میڈیا میں مناسب انداز میں اجاگر نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران بھرپور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور بھارت کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھارتی طیارے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارروائیاں کرنے آئے تو پاکستان نے مؤثر جواب دیا۔ ان کے بقول پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور قومی یکجہتی نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک چلانا سب سے بڑا مسئلہ اور ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام اداروں، سیاسی قوتوں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہے۔