پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہوا جہاں اراکین اسمبلی کی غیر حاضری نے اس بات کو ثابت کردیا کہ اپنے ہی لوگوں نے سہیل آفریدی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں 92 اراکین اسمبلی میں سے صرف 55 سے 60 کے درمیان ایم پی ایز نے شرکت کی، جبکہ 30 سے 35 ارکان اسمبلی اور کابینہ کے اراکین اجلاس میں شریک نہ ہو سکے اس غیر معمولی غیر حاضری نے واضح کردیا کہ تحریک انصاف میں شدید تقسیم موجود ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے طلب کردہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بڑی تعداد میں اراکین کی عدم شرکت کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک نہ ہونے والے ارکان میں سے تقریباً 10 ارکان اسمبلی نے پہلے ہی شہر یا ملک سے باہر ہونے یا دیگر مصروفیات کے باعث پیشگی طور پر شرکت سے معذرت کر لی تھی،گنڈا پور نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔
اتنی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی کی غیر حاضری کو معمول کا واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتایہ صورتحال پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور اتحاد سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
اجلاس میں کثیر تعداد میں اراکین اسمبلی کی عدم شرکت سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی لوگ سہیل آفریدی اور ان کی پالیسیوں سے نالاں ہیں جبکہ تحریک انصاف میں اختلافات شدید ترین ہوگئے ہیں ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پیغام کے بعد سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی میں تقسیم مزید واضح ہوگئی ہے۔
پارٹی کے پارلیمانی ارکان کے واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا،علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ کے بعض دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص بانی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا واضح نام لیا جائےاس کی اس کا کا کیا مطلب ہے
انہوں نے مزید کہا کہ مبہم انداز میں الزامات لگانا درست نہیں اور اس طرح کے بیانات سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جب بات کی جائے تو واضح طور پر ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ علی امین نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنا صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا اور دوسروں پر الزامات لگا رہےہیں ۔
گزشتہ دنوں یہ خبربھی سامنے آئی تھی کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش ہیں اور ان کے تحفظات سامنے آنے کے بعد آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ناراض اراکین کے اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنی جماعت کے ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی قسم کا فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کی گئی تو اس میں شامل افراد کو سامنے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے ایسی کوئی حرکت کی تو خیبرپختونخوا کی زمین ان پر تنگ کر دی جائے گی۔