امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا حتمی مسودہ تاحال طے نہ ہو سکا

امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا حتمی مسودہ تاحال طے نہ ہو سکا

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک کسی حتمی مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے مختلف نکات پر دونوں جانب سے ترامیم اور مشاورت کا عمل جاری ہے اور مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فریقین معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بعض اہم نکات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ اسی دوران امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا ایک ترمیم شدہ مسودہ ایران کو ارسال کیا ہے جس میں بعض شرائط کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ معاہدہ فائنل ہوچکا ،امریکی میڈیا کا دعوی

ذرائع کے مطابق ابتدائی بات چیت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت ایران کے منجمد اثاثوں میں سے بارہ ارب ڈالر جاری کرنے جیسے معاملات پر پیش رفت ہوئی تھی۔ تاہم تازہ ترامیم کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

امریکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ کسی نہ کسی نوعیت کے معاہدے کی توقع ہے تاہم اس کے حتمی ہونے کے وقت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران میں جنگ بندی میں توسیع کامعاہدہ ہوگیا، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

اس سے قبل ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے اور بیرونی ذرائع سے جوہری مواد حاصل نہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی مطلوبہ شرائط کے حصول کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو دیگر آپشنز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے

editor

Related Articles