ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے مستقبل یا ممکنہ معاہدے کے بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق مختلف ذرائع سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور متعدد امور پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک ایسا کوئی مرحلہ نہیں آیا جسے حتمی پیش رفت قرار دیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کا انحصار عملی نتائج اور قابل عمل تجاویز پر ہوگا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران دشمن کے وعدوں اور بیانات پر اندھا اعتماد نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ صرف زبانی یقین دہانیوں یا سیاسی بیانات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد صرف ٹھوس اور قابل تصدیق نتائج ہوں گے۔ اگر کوئی سمجھوتہ ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتا اور اس کے عملی فوائد واضح نہیں ہوتے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مذاکرات کا مقصد صرف دباؤ کم کرنا نہیں بلکہ ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جو ایرانی قوم کے لیے حقیقی فوائد کا باعث بنیں۔
حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے آنے والے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کسی بھی پیش رفت کے اعلان سے قبل انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔