صومالیہ کے بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کی ایک نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ویڈیو میں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے اپنی رہائی کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان سے 17 فروری کو روانہ ہونے والے بحری جہاز اونر 25 کو تقریباً دو ماہ بعد 21 اپریل کو صومالی بحری قزاقوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان گزشتہ 43 روز سے زائد عرصے سے قزاقوں کی قید میں ہیں اور سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
منظر عام پر آنے والی تازہ ویڈیو میں 10 پاکستانی یرغمالی دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو لاحق خطرات اور قید کے دوران درپیش مشکلات بیان کی ہیں۔ یرغمالیوں میں شامل یاسر خان نے آرمی چیف، حکومت پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کی محفوظ رہائی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ویڈیو میں یرغمالیوں نے بتایا کہ انہیں خوراک اور پینے کے صاف پانی کی شدید قل
ت کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق قید کے دوران 24 گھنٹوں میں صرف ایک مرتبہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے جبکہ پینے کے لیے بھی غیر معیاری اور آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل خراب حالات کے باعث ان کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
یرغمالیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی رہائی کے لیے قزاقوں کے مطالبات اور مذاکراتی عمل پر پیش رفت کو تیز کیا جائے تاکہ وہ جلد اپنے اہل خانہ کے پاس واپس لوٹ سکیں۔
دوسری جانب پاکستان میں موجود یرغمالیوں کے اہل خانہ بھی شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد خاندانوں نے حکومت سے فوری مداخلت اور یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے سفارتی اور انسانی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔