دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا سکیورٹی فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت اب صارفین محض ایک سیلفی ویڈیو کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب وہ پاس ورڈ بھول جائیں یا اپنے مستند آلات تک رسائی نہ رکھتے ہوں۔
کمپنی کے مطابق نئے فیچر سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارف کو ابتدائی طور پر اپنی سیٹنگز میں جا کر ایک سیلفی ویڈیو ریکارڈ کرنا ہوگی، جس کے دوران انہیں کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے چند مختصر ہدایات پر عمل کرنا ہوگا تاکہ چہرے کے مختلف زاویوں کو محفوظ کیا جا سکے۔ یہ عمل انتہائی آسان اور صارف دوست بنایا گیا ہے تاکہ عام صارفین بھی بلا کسی مشکل کے اسے استعمال کر سکیں۔
اگر صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے
ایک بار سیٹ اپ مکمل ہونے کے بعد، اگر صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے یا اپنے موبائل و دیگر مستند آلات تک رسائی کھو دے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے دوبارہ اپنے گوگل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکے گا۔
گوگل کا نظام نئی ریکارڈ کی گئی ویڈیو کا موازنہ پہلے سے محفوظ شدہ ویڈیو سے کرے گا اور شناخت کی تصدیق ہونے پر ہی صارف کو لاگ اِن کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ صارفین کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی وقت اپنی محفوظ شدہ سیلفی ویڈیو کو اکاؤنٹ سے حذف کر سکیں۔
ویڈیو شناختی تصدیق کے مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ ویڈیو صرف سائن اِن اور شناختی تصدیق کے مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی، جب تک کہ صارف خود کسی اضافی مقصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
محفوظ کی گئی سیلفی ویڈیو کو انکرپٹڈ انداز میں محفوظ رکھا جائے گا تاکہ ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ جعلی تصاویر یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے دھوکا دہی سے بچاؤ کے لیے اس فیچر میں سکیورٹی کی متعدد جدید تہیں شامل کی گئی ہیں، جن میں لائیونیس کی تصدیق بھی شامل ہے۔
یعنی صارف کو حقیقی وقت میں مخصوص حرکات دہرانا ہوں گی تاکہ ثابت ہو سکے کہ یہ کوئی جامد تصویر یا پرانی ویڈیو نہیں بلکہ زندہ شخص کی موجودگی ہے۔
یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے اکاؤنٹ رسائی اور سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
گوگل اکاؤنٹس میں انتہائی حساس معلومات محفوظ ہوتی ہیں
کمپنی کے مطابق گوگل اکاؤنٹس میں انتہائی حساس معلومات محفوظ ہوتی ہیں جن میں ای میلز، دستاویزات اور ذاتی نوعیت کا میڈیا شامل ہے، اور ایسے اکاؤنٹس تک رسائی کھو دینا صارفین کے لیے شدید پریشانی اور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے روایتی طریقوں جیسے دو مرحلہ تصدیق، ریکوری ای میل یا مستند آلات کے علاوہ ایک اضافی متبادل راستہ متعارف کرایا ہے۔
بیک اپ آپشن متعارف
واضح رہے کہ یہ فیچر بطور بیک اپ آپشن متعارف کرایا گیا ہے، یعنی یہ پاس ورڈ، پاس کیز یا 2 مرحلہ تصدیق کا مکمل متبادل نہیں بلکہ ان کے ساتھ ایک اضافی محفوظ ذریعہ ہے۔
کمپنی صارفین کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ صرف ایک ہی طریقے پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد ریکوری آپشنز فعال رکھیں تاکہ اکاؤنٹ کی سلامتی کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جعلی شناختی تصدیق اور دھوکا دہی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے شناخت جعل سازی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مضبوط تصدیقی نظام تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
دنیا میں شناختی تصدیق
یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں شناختی تصدیق کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ روایتی پاس ورڈ پر مبنی نظام میں کئی کمزوریاں پائی جاتی ہیں، جیسے پاس ورڈ بھول جانا، چوری ہونا یا ہیکنگ کا شکار ہونا۔
ایسے میں بایومیٹرک تصدیق پر مبنی نظام صارفین کو زیادہ آسان اور محفوظ متبادل فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں جدید حفاظتی تہیں شامل ہوں۔
تاہم اس فیچر کے حوالے سے کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حقیقی وقت میں چہرے کی حرکات کی تصدیق جعلی تصاویر اور روایتی جعل سازی کے طریقوں کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ نظام ان جدید حملوں کے خلاف اتنا مؤثر نہیں جن میں کیمرے کو نظرانداز کر کے براہ راست مصنوعی ویڈیو سسٹم میں داخل کی جاتی ہے۔
اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین صرف چہرے کی شناخت پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر محفوظ طریقوں جیسے پاس کیز کو بھی ساتھ استعمال کریں، جن میں نجی کلید کبھی بھی محفوظ آلے سے باہر نہیں جاتی۔
مجموعی طور پر یہ فیچر ڈیجیٹل سلامتی کے میدان میں ایک مثبت قدم ہے، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو اکثر پاس ورڈ بھول جاتے ہیں یا اپنے مستند آلات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔
تاہم اس کی طویل مدتی افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کمپنی مستقبل میں جعل سازی کی نئی تکنیکوں کے خلاف اپنے حفاظتی نظام کو کس حد تک بہتر بناتی ہے۔