پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے خوش آئند خبر سامنے آگئی، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کے قواعد میں اہم نرمی کر دی ہے۔
اس اقدام سے ایسے کاروباروں کو بڑا ریلیف ملے گا جو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن سخت شرائط کے باعث ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے تھے۔
سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ نے مطابق ایس ای سی پی نے شراکت داری میں چلنے والے کاروبار اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس کیلئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔
اس نئی سہولت کے تحت ایسے کاروبار جو اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے کاروبار کو ایس ای سی پی میں کمپنی کے طور پر رجسٹر کروا سکیں گے،تاہم ابتدائی عوامی پیشکش کے لیے اہلیت حاصل کرنے کی غرض سے وہ کمپنی میں تبدیل ہونے سے قبل اپنے کاروبار کی سابقہ منافع بخش مالی کارکردگی اور مالیاتی گوشواروں کو بھی استعمال کر سکیں گے۔
نظر ثانی شدہ فریم ورک کے تحت اہل کاروبار اب کمپنی کی حیثیت اختیار کرنے سے قبل اپنے منافع بخش کاروباری گوشواروں کو آئی پی او کے لیے درکار دو سالہ منافع بخش ریکارڈ کی شرط پوری کرنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
اہل کاروبار کو گزشتہ کم از کم دو مالی سالوں کے نظر ثانی شدہ مالیاتی گوشوارے تیار کرنا ہوں گے، جن کا آڈٹ کوالٹی کنٹرول ریویو سے منظور شدہ آڈٹ فرم کے ذریعے کیا گیا ہو، انہیں اسی مدت کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے بھی جمع کرانا ہوں گے، جس دوران کمپنی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہو، اس کے علاوہ اسپانسرز کے تمام حصص لسٹنگ کے دو سال تک تبدیل نہیں کیے جا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق ایس ای سی پی کا یہ فیصلہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ مارکیٹ کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اس اقدام سے چھوٹے اور ابھرتے ہوئے کاروباروں کو سرمایہ حاصل کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی سرمایہ کاری کے مزید متبادل سامنے آئیں گے۔
مختصراً، آئی پی او شرائط میں نرمی کا یہ اقدام کاروباری برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ مزید متحرک ہونے کی توقع ہے۔