پیٹرول پر عائد لیوی سے متعلق وزیرپیٹرولیم کا بڑا بیان

پیٹرول پر عائد لیوی سے متعلق وزیرپیٹرولیم کا بڑا بیان

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول پر عائد موجودہ لیوی ماضی کے جنگی ادوار میں عائد لیوی سے بھی کم ہے، تاہم اس میں کمی کے معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو متبادل ریونیو ذرائع یا لیوی کا کوئی قابل عمل متبادل مل گیا تو ممکن ہے آئی ایم ایف اس حوالے سے رضامند ہو جائے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین، اوگرا کے کردار اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو دے دیا ہے۔ ان کے مطابق ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام متعلقہ شراکت داروں کو اعتماد میں لے کر قیمتوں کا تعین کرے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا مکمل طریقہ کار اوگرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اسے اردو زبان میں بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ اگرچہ اب قیمتوں کا اعلان روزانہ کیا جاتا ہے، تاہم ان کا تعین آج بھی عالمی مارکیٹ میں گزشتہ سات روز کی اوسط قیمت (سیون ڈے رولنگ ایوریج) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ حکومتی ٹیکسز، لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کو شامل کر کے مقامی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیاد پر کیا جاتا تھا تو قیمتوں میں اضافے کی توقع کے باعث بعض عناصر سپلائی کم کر دیتے تھے، تاہم روزانہ قیمتوں کے نظام سے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کے بعد مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ، نوٹیفکیشن جاری

روزانہ قیمتوں کا تعین عوام کے لیے فائدہ مند قرار

اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین اوگرا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں آج شام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات سات روز کی اوسط میں شامل ہونے کے بعد پاکستان میں بھی نظر آئیں گے۔ اسی طرح اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی سات دن کی اوسط کے ذریعے مقامی قیمتوں میں شامل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پیٹرول پر کسٹم ڈیوٹی 18 روپے 11 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے شارٹ ٹرم منافع کمانے والوں کی گنجائش ختم ہو گئی ہے اور مارکیٹ میں مصنوعی تاثر پیدا کر کے فائدہ اٹھانے والے عناصر کا کاروبار متاثر ہوگا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی تنقید

اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار سلو پوائزن کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے شدید متاثر ہیں اور اب انہیں روزانہ بدلتی قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 11 جولائی کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی اور 17 جولائی کو یہ 82 ڈالر تک پہنچی تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 30 روپے کا اضافہ کیسے کر دیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل مہنگا کردیا گیا

اس پر وفاقی وزیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی قیمتوں کا تعین خام تیل کی نہیں بلکہ تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل (ریفائنڈ پروڈکٹس) کی عالمی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں میں فرق ہو سکتا ہے۔

علی پرویز ملک نے اجلاس کو بتایا کہ چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کا عمل بروقت شروع کیا گیا تھا اور امیدواروں کے انٹرویوز بھی ہوئے، تاہم موزوں امیدوار نہ ملنے کے باعث یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

Related Articles