امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں امریکا اپنے اسٹرٹیجک اہداف حاصل کرنے کے لیے انتہائی مضبوط اور سازگار پوزیشن میں ہے۔
امریکی نیوز چینل ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں نائب صدر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے طے شدہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بہترین پوزیشن کا حامل ہے اور تہران پر دباؤ کی حکمت عملی رنگ لا رہی ہے۔
انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت اب اس طویل جنگ اور معاشی تصادم کو مزید جاری رکھنے کی سکت نہیں رکھتی، کیونکہ یہ صورتحال خود ان کے اپنے ملکی اور علاقائی مفادات کے خلاف جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں ایرانی حکام مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور وہ اب ایسی سنجیدہ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن پر پہلے بات چیت ممکن نہیں تھی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ان تمام تجاویز کی مکمل اور سخت ترین تصدیق (ویریفکیشن) کرے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکے سے بچا جا سکے۔
امریکی نائب صدر نے اس سفارتی پیش رفت کو امریکی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی جیت قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک کسی پائیدار اور جامع معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور خصوصاً امریکی عوام کے لیے ایک تاریخی اور بہت بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
امریکا اور ایران کے تعلقات میں گزشتہ چند سالوں سے شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکا کو یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا اور ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘(میکسیمم پریشر) کی مہم کے تحت سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
موجودہ دور میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نیا اور زیادہ سخت معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جس میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر روکا جائے بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی حامی تنظیموں کی فنڈنگ کا خاتمہ بھی شامل ہو۔
حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران پر لگی سخت ترین اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے تہران پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔
طاقت کے ذریعے امن کی حکمت عملی
ٹرمپ انتظامیہ کی ’امن بذریعہ طاقت‘ کی پالیسی یہاں واضح نظر آتی ہے۔ نائب صدر کا یہ کہنا کہ امریکا ‘مضبوط پوزیشن’ میں ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن معاشی اور عسکری دباؤ کو ایران کو جھکانے کا اہم ترین ذریعہ سمجھتا ہے۔
ایران کی معاشی مجبوری
جے ڈی وینس کا یہ متبادل نقطہ نظر کہ ’جنگ ایران کے مفاد میں نہیں‘، تہران کی اندرونی معاشی بدحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایران اس وقت اندرونی احتجاج، تیل کی فروخت میں مشکلات اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے، جس نے اسے سفارتی لچک دکھانے پر مجبور کیا ہے۔
پہلے تصدیق، پھر یقین، کی پالیسی
امریکی نائب صدر کا تجاویز کی ‘تصدیق’ پر زور دینا ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر آسانی سے بھروسہ نہیں کرے گا۔ کوئی بھی نیا معاہدہ سخت ترین شرائط اور بین الاقوامی معائنے کے نظام کے تحت ہی ممکن ہوگا۔
سیاسی فائدہ
اس ممکنہ معاہدے کو ‘امریکی عوام کی کامیابی’ قرار دے کر ٹرمپ انتظامیہ گھریلو سطح پر اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتی ہے، تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ان کی سخت خارجہ پالیسی نے بغیر کسی بڑی جنگ کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے ہیں۔