وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کے مالکان کے لیے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کا بل پیش کر دیا گیا، تاہم وزارتِ قانون نے بل کو عجلت میں منظور کرنے سے روک دیا اور مزید غور کے لیے معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے سے متعلق بل پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کے مالکان پر ٹوکن ٹیکس فیس میں اضافہ کیا جانا ہے۔
بل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ٹوکن ٹیکس فیس میں اضافے سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کو ضروری فنڈز حاصل ہوں گے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پڑوسی صوبے پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ٹوکن ٹیکس فیس پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اس لیے اب اسلام آباد میں بھی اس فیس میں اضافہ کرنا ہوگا۔
دوسری جانب وزیرِ قانون نے بل پر تفصیلی بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عجلت میں اس طرح کا بل پاس نہیں کیا جا سکتا۔
وزیرِ قانون نے بل سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ بھی اٹھایا اور تجویز دی کہ ٹوکن ٹیکس فیس بڑھانے کا مستقل اختیار فیڈرل کیبنٹ، یعنی وفاقی کابینہ، کو دے دینا چاہیے، ورنہ ہر سال فیس بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ سے قانون بدلنا پڑے گا۔
وزیرِ قانون نے واضح کیا کہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا، جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔