نئے مالی سال کے دوران 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جائیگا،بجٹ دستاویز

نئے مالی سال کے دوران 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جائیگا،بجٹ دستاویز

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق دستاویزات میں اہم مالی اہداف اور اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جن کے مطابق مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم ساڑھے 18 ہزار ارب روپے  ہوگا۔

بجٹ میں معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، توانائی، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور سرکاری ملازمین کیلئے مالی ریلیف پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کے دوران 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی اور سرچارج کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے اکٹھے کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے خسارے پر مشتمل ہوگا تاہم حکومت نے سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے پرامید اہداف مقرر کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی شرح نمو 15 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ اسی طرح مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری اسکیموں کو ترجیح دی گئی ہے اور نئے منصوبوں کے بجائے زیر تکمیل منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کیلئے 63 ارب روپے جبکہ وفاقی وزارتوں کیلئے 682 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کیلئےبڑی خوشخبری، فی یونٹ بڑی کمی کر دی گئی،نوٹفکیشن جاری

اہم شعبوں کیلئے مختص رقوم کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 224 ارب روپے، توانائی منصوبوں کیلئے 116 ارب روپے اور آبی وسائل ڈویژن کیلئے 103 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 85 ارب 2 کروڑ روپے جبکہ تعلیم و تربیت کے شعبے کیلئے 36 ارب 31 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو مالیاتی ایوارڈ کے تحت 233 ارب 35 کروڑ روپے فراہم کرے گی، جبکہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگراموں کیلئے مجموعی طور پر 2 ہزار 218 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے پیش نظر سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے صارفین اور کاروباری حلقوں کیلئے ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے بھی خوشخبری شامل ہے اور تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں بجٹ میں ملازمین کی تنخواوں کو حصوں میں بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے گریڈ ایک سے سولہ کے ملازمین کے تنخوا میں زیادہ اضافہ ہوگا جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک تنخواوں میں کم اضافہ ہوگا

editor

Related Articles