لندن ( اظہر جاوید سے ) مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے آزاد کشمیر (AJK) میں حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر جمہوری معاشرے میں قانون کی حکمرانی کو یکساں طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
آزاد کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے رکن برطانوی پارلیمنٹ افضل خان نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹیرینز کبھی بھی تشدد کی حمایت نہیں کریں گے، چاہے وہ برطانیہ میں ہو، آزاد کشمیر میں یا پاکستان میں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے تاہم کسی بھی صورت میں تشدد قابلِ قبول نہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
رکن برطانوی پارلیمنٹ نے برطانیہ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ساؤتھ پورٹ فسادات کا ذکر کیا اور کہا کہ برطانوی حکام نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی، اور ملزمان کو فاسٹ ٹریک عدالتی نظام کے تحت سزائیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت بھی اسی طرز عمل کو اختیار کر سکتی ہے تاکہ احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ جیسے جمہوری نظام میں پرامن مظاہروں کی اجازت ہوتی ہے لیکن جو افراد احتجاج کے دوران تشدد میں ملوث ہوتے ہیں انہیں قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی اصول عالمی سطح پر، بشمول آزاد کشمیر، لاگو ہونا چاہیے۔
افضل خان نے خبردار کیا کہ عدم استحکام کو بیرونی عناصر استعمال کر سکتے ہیں اور کہا کہ بھارت سمیت کچھ عناصر ایسے حالات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا درست آئینی حل انتخابات میں حصہ لے کر اور قانونی و پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے تبدیلی لانا ہے۔