بجٹ کے روز تیل کی قیمتیں گر گئیں، بڑی کمی

بجٹ کے روز تیل کی قیمتیں گر گئیں، بڑی کمی

وفاقی بجٹ 2026-27 پیش کیے جانے کے روز پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک مثبت معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے ممکنہ معاہدے اور مجوزہ فوجی کارروائی روکنے سے متعلق بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی مرتب ہونے کی توقع ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ رواں ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ ایران پر مجوزہ حملے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی جس کا فوری اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد تک گر گئیں۔ برینٹ کروڈ 89 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی اور یو اے ای مربن خام تیل تقریباً 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہوتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کی بجٹ کے روز بیرون ملک موجودگی ، سعودی عرب میں سرگرمیاں کیا رہیں؟

ادھر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی زبردست تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 3.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 7.5 فیصد سے زائد بڑھ گیا جسے خطے کی مالیاتی منڈیوں کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے خوش آئند خبر ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ عالمی قیمتوں میں کمی برقرار رہنے کی صورت میں حکومت کو درآمدی بل میں ریلیف مل سکتا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles