موٹروے پولیس کی فرض شناسی ، 22 لاکھ کا سونا مالک کے حوالے

موٹروے پولیس کی فرض شناسی ، 22 لاکھ کا سونا مالک کے حوالے

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق بلوچستان میں گوادر کے قریب معمول کی پیٹرولنگ کے دوران موٹروے پولیس کے اَفسران کو سڑک پر ایک لاوارث بیگ پڑا ہوا ملا۔اَفسران نے جب بیگ کو اپنے قبضے میں لے کر چیک کیا تو اس میں 22 لاکھ روپے مالیت کے قیمتی سونے کے زیورات اور دیگر اہم سامان موجود تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ بیگ سفر کے دوران گاڑی سے سڑک پر گر گیا تھا اور اس کے مالک کو اس بات کا علم ہی نہیں ہو سکا تھا کہ ان کا اتنا قیمتی سامان راستے میں کہیں چھوٹ گیا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے مالک کی تلاش اور امانت کی سپردگی

موٹروے پولیس نے روایتی تفتیش کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مقامی ذرائع پر اس بیگ سے متعلق معلومات شیئر کیں تاکہ اصل مالک تک پہنچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:قربانی کے جانوروں کیساتھ گاڑیوں میں سفر،موٹر وے پولیس نےبڑا اعلان کر دیا

اِن تھک کوششوں کے بعد بیگ کے اصل مالک کا سراغ لگا لیا گیا۔ موٹروے پولیس کی جانب سے تمام قانونی اور سخت تصدیقی مراحل کو پورا کرنے کے بعد، 22 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور دیگر سامان مکمل حفاظت کے ساتھ اصل مالک کے سپرد کر دیا گیا، جس پر مالک نے موٹروے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور ان کی ایمانداری کو سراہا۔

کروڑوں روپے کی دواؤں سے بھرے کنٹینر کی بازیابی

اسی دوران موٹروے پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سڑک سے چھینا گیا ایک بہت بڑا کنٹینر بازیاب کرا لیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس کنٹینر میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی دوائیں موجود تھیں، جنہیں ڈاکو یا لٹیرے چھین کر فرار ہو رہے تھے۔ موٹروے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اس کنٹینر کو اپنے قبضے میں لیا بلکہ ادویات کی صورت میں موجود کروڑوں روپے کے قومی اثاثے کو ضائع ہونے یا بلیک مارکیٹ میں جانے سے بچا لیا۔

موٹروے پولیس کا عوامی اعتماد اور آپریشنل دائرہ کار

پاکستان موٹروے پولیس کو ملک کے دیگر پولیس اداروں کے مقابلے میں ہمیشہ سے ایک رول ماڈل اور انتہائی ایماندار فورس تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:’کیا آپ قربانی کا جانور لا رہے ہیں؟ موٹر وے پر جانے سے پہلے پولیس کا یہ تازہ ترین الرٹ لازمی پڑھ لیں

حالیہ برسوں میں جب سے سی پیک کے تحت گوادر اور بلوچستان کے دیگر حصوں کو موٹرویز اور ہائی ویز کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے، موٹروے پولیس کا دائرہ کار اور چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ موٹروے پولیس نے شہریوں کا کھویا ہوا قیمتی سامان لوٹایا ہو، تاہم گوادر جیسے دور دراز علاقے میں 22 لاکھ کے سونے کی بحفاظت واپسی اور دوسری طرف کروڑوں روپے کی ادویات کے کنٹینر کی بازیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ فورس دور دراز شاہراہوں پر بھی جرائم کے خاتمے اور عوامی خدمت کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔

سڑک پر گرے ہوئے 22 لاکھ روپے کے سونے کو دیکھ کر نیت خراب نہ ہونا اور پھر سوشل میڈیا کا سہارا لے کر مالک کو ڈھونڈنا یہ ثابت کرتا ہے کہ موٹروے پولیس کے اندر آج بھی ادارہ جاتی مانیٹرنگ اور اخلاقی تربیت کا نظام بہت مضبوط ہے۔ سوشل میڈیا کو پروپیگنڈے کے بجائے پبلک سروس کے لیے استعمال کرنا ایک بہترین ماڈل ہے۔

Related Articles