مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے اہم مشاورتی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے باہمی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکا نے ایران اور امریکا کے درمیان 18 جون کو ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو تعمیری پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں، عالمی بحری راستوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق ہوئے، اس لیے امن کی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ مذاکرات کو کامیاب بنانے میں قطر کی معاونت کی بھی تعریف کی گئی۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور مذاکرات کے آئندہ مرحلے کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھی جائیں۔
اعلامیے میں دیرپا قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کے تمام ممالک کے تحفظات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ خلیجی ممالک، شام، لبنان اور پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
اجلاس میں فلسطین کے مسئلے کو خطے میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق، حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ چاروں ممالک نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اجتماعی سلامتی اور مشترکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں طویل المدتی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ امن کے لیے رابطوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔