ایک ہزار سی سی گاڑی صرف 5,776 روپے ماہانہ میں حاصل کریں

ایک ہزار سی سی گاڑی صرف 5,776 روپے ماہانہ میں حاصل کریں

فیصل بینک نے صارفین کو مقامی طور پر تیار کی جانے والی ایک ہزار سی سی گاڑیاں شریعہ اصولوں کے مطابق آسان اقساط پر فراہم کرنے کے لیے اسلامی آٹو فنانس اسکیم متعارف کرا دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت صارفین پانچ سال تک کی مدت میں گاڑی حاصل کر سکتے ہیں۔

بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ سہولت ڈمنشنگ مشارکہ ماڈل کے تحت فراہم کی جا رہی ہے، جس میں بینک اور صارف دونوں گاڑی کی خریداری میں مشترکہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔ صارف ہر ماہ قسط ادا کرنے کے ساتھ گاڑی میں اپنی ملکیت کا حصہ بڑھاتا جاتا ہے، جبکہ فنانسنگ کی مدت مکمل ہونے پر گاڑی کی مکمل ملکیت صارف کو منتقل ہو جاتی ہے۔

فیصل بینک کے مطابق پانچ سالہ فنانسنگ منصوبے کے تحت ایک ہزار سی سی گاڑی کے لیے صارف کی متوقع ماہانہ قسط 5 ہزار 776 روپے ہوگی۔ تاہم بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ ماہانہ قسط عارضی تخمینہ ہے اور گاڑی کی بکنگ مکمل ہونے کے بعد اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں زبردست تیزی، جون 2026 مالی سال کا کامیاب ترین مہینہ ثابت

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارف کو ابتدا میں 112 ہزار 750 روپے بطور ابتدائی ادائیگی جمع کرانا ہوں گے۔ اس رقم میں 75 ہزار روپے بطور ایکویٹی شراکت، 12 ہزار روپے پروسیسنگ فیس (فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے بغیر)، 22 ہزار روپے ٹریکر فیس (فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے بغیر) اور پہلے سال کے لیے 3 ہزار 750 روپے تکافل کی مد میں شامل ہیں۔ گاڑی کی رجسٹریشن کے اخراجات اس رقم میں شامل نہیں ہوں گے اور ان کا انحصار صارف کی منتخب کردہ گاڑی کے ماڈل پر ہوگا۔

بینک کے مطابق وہ گاڑی کی مجموعی قیمت کا 70 فیصد تک فنانس فراہم کرے گا، جبکہ فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

یہ سہولت نئی اور استعمال شدہ دونوں مقامی گاڑیوں کی خریداری کے لیے دستیاب ہے۔ تاہم استعمال شدہ گاڑی صرف اسی صورت میں فنانس کی جائے گی جب فنانسنگ کے دوران اس کی عمر نو سال سے زیادہ نہ ہو۔

فیصل بینک نے مزید بتایا کہ گاڑی صارف کے حوالے کیے جانے تک کسی قسم کی کرایہ (رینٹل) فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ صارفین کو قبل از وقت مکمل ادائیگی، جزوی قبل از وقت ادائیگی، شریک فنانسنگ ، ٹریکر کی تنصیب اور تکافل جیسی اضافی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ٹویوٹا اور ہونڈا نے اچانک گاڑیاں لاکھوں روپے مہنگی کر دیں، خریداروں کو بڑا جھٹکا

بینک نے صارفین کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کی گئی یا قسطیں بروقت ادا نہ کی گئیں تو اس سے ای سی آئی بی نظام میں ان کے کریڈٹ ریکارڈ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مستقبل میں فنانسنگ کی سہولت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ فیصل بینک نے واضح کیا کہ اسکیم کے تحت دی گئی ماہانہ قسطیں ابتدائی تخمینے پر مبنی ہیں اور حتمی بکنگ کے بعد ان میں ردوبدل ممکن ہے۔

Related Articles