سینئر صحافی و تجزیہ کار حسن ایوب نے اپنے وی لاگ میں کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی تنظیمی اکائیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حسن ایوب کے مطابق آڈیو میں کہا گیا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف جاری تنقید اور منفی مہم بند نہ ہوئی تو جے یو آئی کے کارکنان جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ صورتحال کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع اور اہم عسکری حکام سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے جواب دیا، “جی بسم اللہ، بلکہ سو بسم اللہ، لکھ واری آؤ۔
حسن ایوب کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ چونکہ مولانا عبدالغفور حیدری ایک سینئر سیاسی رہنما ہیں، اس لیے انہیں اپنے بیان سے مکرنا نہیں چاہیے اور اگر انہوں نے دھرنے کا اعلان کیا ہے تو انہیں اپنے کارکنان، صوبائی صدور اور مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ جی ایچ کیو کے سامنے آنا چاہیے، بصورت دیگر یہ محض “کھوکھلے فائر” ثابت ہوں گے۔
حسن ایوب کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جے یو آئی کی قیادت اور کارکنان جی ایچ کیو آتے ہیں تو ان کی بھرپور “خاطر مدارت اور عزت افزائی” کی جائے گی۔