ملک میں نیٹ بلنگ قوانین کے نفاذ کے بعد سولر صارفین میں اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرنے کے بجائے بیٹریوں میں ذخیرہ کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا ہے، جس کے باعث حکومت نے قومی بیٹری فریم ورک کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے۔
پاکستان بیٹریز امپورٹ مارکیٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 6.004 گیگا واٹ صلاحیت کی بیٹریاں درآمد کی جا چکی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2026 کے دوران سب سے زیادہ 652.2 میگاواٹ صلاحیت کی بیٹریاں درآمد کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف اپریل 2026 کے دوران شہریوں نے بیٹری اسٹوریج سسٹمز میں 126 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس وقت ملک میں سولر توانائی کے علاوہ بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 39 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں مجموعی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 18 فیصد نقصان ہوتا ہے۔
بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی درآمد اور استعمال کے پیش نظر حکومت نے قومی بیٹری فریم ورک کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں سولر توانائی اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کو اپنانے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
رپورٹ میں عالمی رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں توانائی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 15 لاکھ میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ 2024 سے 2035 کے دوران بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں عالمی سطح پر 1.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے بیٹری اسٹوریج کو مزید قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں بیٹری پیک کی اوسط قیمت 151 ڈالر فی کلو واٹ تھی، جو 2025 میں کم ہو کر 70 ڈالر فی کلو واٹ رہ گئی، جس سے بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر صارفین کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کی منظوری کا اختیار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو دے دیا ہے۔
نیپرا کی جانب سے سولر ریگولیشنز 2026 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق 25 کلو واٹ تک سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو اب نیپرا سے علیحدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکوز) کو 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کی درخواستوں کی منظوری دینے کا براہِ راست اختیار حاصل ہوگا۔
نیپرا کے اس فیصلے کا مقصد سولر صارفین کے لیے منظوری کے عمل کو آسان اور تیز بنانا ہے تاکہ چھوٹے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبوں کے اجرا میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
نئی ترامیم کے بعد سولر سسٹم لگانے والے صارفین اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی سے براہِ راست منظوری حاصل کر سکیں گے، جس سے درخواستوں کی کارروائی میں وقت کی بچت متوقع ہے۔