یورپی غیر منافع بخش ادارے سیفر اےآئی کی نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی کمپنی مصنوعی ذہانت ژیپو اے آئی کا اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت کا ماڈل جی ایل ایم 5.2 خطرناک سائبر سیکیورٹی اور حیاتیاتی نوعیت کی تمام آزمائشی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تیار تھا اور اس نے کسی بھی درخواست کو مسترد نہیں کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت نے جدید چینی اے آئی سسٹمز میں حفاظتی اقدامات کی مؤثریت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب چینی ماڈلز صلاحیت کے اعتبار سے امریکی کمپنیوں کے ماڈلز کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
تحقیق میں جی ایل ایم 5.2 کا موازنہ اوپن اےآئی کے جی پی ٹی 5.5 اور انتھروپک کے کلاوڈ اوپس 4.7 سے کیا گیا۔ جانچ کے دوران ماڈلز کو سائبر حملوں، حیاتیاتی خطرات، نقصان دہ ہدایات اور کنٹرول سے باہر ہونے جیسے شعبوں میں پرکھا گیا، جو یورپی یونین کے جنرل پرپز اے آئی ضابطہ اخلاق کے اہم خطراتی شعبے سمجھے جاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی سے متعلق سائی بینچ ٹیسٹ میں جی ایل ایم 5.2 نے 34 میں سے 29 چیلنجز کامیابی سے مکمل کیے، جبکہ جی پی ٹی 5.5 نے 31 ٹاسک مکمل کیے۔ محققین کا کہنا ہے کہ چینی ماڈل نے کرپٹوگرافی، ویب سیکیورٹی، ریورس انجینیئرنگ، فرانزک اور بائنری ایکسپلائٹیشن جیسے شعبوں میں بھی مضبوط کارکردگی دکھائی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرنے پر ماڈل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سائبر جیم ٹیسٹ کے دوران 2ملین ٹوکنز کے ساتھ یہ ماڈل 36.6 فیصد سافٹ ویئر کمزوریوں کو دوبارہ تیار کرنے میں کامیاب ہوا، جبکہ 50 ملین ٹوکنز پر یہی شرح بڑھ کر 76.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں جی پی ٹی 5.5 نے 88 فیصد کامیابی حاصل کی۔
ریسرچرز کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سائبر صلاحیت ایک مستقل سطح پر نہیں رہتی بلکہ زیادہ وقت اور کمپیوٹنگ پاور ملنے سے اس میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں ایک اور اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ جی ایل ایم 5.2 نے آزمائش کے دوران سائبر حملوں یا حیاتیاتی خطرات سے متعلق کسی بھی درخواست کو مسترد نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہ ماڈل سازشی نظریات اور نقصان دہ سرگرمیوں سے متعلق ہدایات پر بھی مغربی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے آمادہ ہو گیا۔
سیفر اے آئی کے مطابق چونکہ جی ایل ایم 5.2 ایک اوپن ویٹ ماڈل ہے، اس لیے اسے مقامی طور پر چلانے والے صارفین حفاظتی فلٹرز، نگرانی اور دیگر پابندیوں کو ہٹا سکتے ہیں، جس سے ممکنہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی بحث صرف اس بات پر نہیں ہوگی کہ چینی اے آئی ماڈلز مغربی ماڈلز کا مقابلہ کر سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہوگا کہ طاقتور اوپن ویٹ ماڈلز کو مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری کرنا کس حد تک محفوظ ہے۔