عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو بھی قیمتی دھات مزید مہنگی ہو گئی جبکہ سونا جنوری کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیزی برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد سونا 4,262.39 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ گزشتہ روز بھی سونا سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا جبکہ رواں ہفتے مجموعی طور پر اس کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا جو رواں سال جنوری کے بعد سب سے نمایاں ہفتہ وار کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔
اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,321.50 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا سونے کی جانب بڑھتا ہوا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ بندی کی امید توانائی کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید ظاہر کیے جانے سے بھی عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا کی جولائی کی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں کیونکہ اس رپورٹ کی روشنی میں امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کا اندازہ لگایا جائے گا۔ موجودہ مارکیٹ اندازوں کے مطابق ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا امکان کم ہو کر 55 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 63 فیصد تھا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے سے سرمایہ کار دوبارہ سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ کم شرح سود کے ماحول میں سونا نسبتاً زیادہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ چاندی کی قیمت 1.3 فیصد اضافے کے بعد 62.27 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 1,737.25 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم معمولی کمی کے باوجود 1,368.37 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔ تاہم ہفتہ وار بنیاد پر تینوں دھاتوں نے مجموعی طور پر مثبت کارکردگی دکھائی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ مقامی نرخوں کا تعین عالمی قیمتوں اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرح تبادلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔