پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان پر پارٹی کے اندر اختلافات اور تحفظات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی کے بعض اجلاسوں میں ارکان نے لانگ مارچ کی تیاریوں، حکمت عملی اور کارکنوں کی ممکنہ شرکت کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کے اجلاس میں 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ذرائع کے مطابق اجلاس میں مارچ کے طریقہ کار پر ارکان کی آرا مختلف رہیں ،ادھر عوام کی طرف سے دلچسپی نہ دکھانے کے باعث قیادت کی اکثریت نے لانگ مارچ موخر کرنے کی تجویز دی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کے اجلاس میں بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، جنید اکبر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں اکثریتی ارکان نے لانگ مارچ کو 5 سے 10 اکتوبر تک مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی،رپورٹ کے مطابق اجلاس میں حکومت کی جانب سے راستے بند کیے جانے کے اقدام کو بھی زیر بحث لایا گیا، جسے شرکا نے حکومتی بوکھلاہٹ قرار دیا۔
حکمت عملی پر اختلاف
رپورٹس کے مطابق پارٹی قیادت کی جانب سے 27 ستمبر کو پنجاب کی سرحد کے قریب دھرنا دینے اور اس کے بعد مرحلہ وار اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی تجویز زیر غور آئی، تاہم اکثریتی ارکان نے لانگ مارچ موخر کرنے کی تجویز دی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض ارکان نے مارچ کی تیاریوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے قیادت سے مزید مشاورت کا مطالبہ کیا ہے، اس سے قبل بھی پی ٹی آئی پنجاب کے ارکان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے مناسب مشاورت نہ ہونے کا شکوہ سامنے آ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ مارچ کے لیے تیاری مکمل نہیں۔
کارکنوں کی شرکت کا معاملہ
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں سے کارکنوں کو مارچ میں لانے کی ذمہ داری سونپی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق مارچ کے راستے، قافلوں کی نقل و حرکت اور شرکا کے انتظامات سے متعلق تفصیلی حکمت عملی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی تھی۔
قیادت کے اندر اختلاف رائے
پی ٹی آئی کے اندر مارچ کی حکمت عملی پر اختلاف رائے کی اطلاعات نئی نہیں ہیں بعض ضلعی رہنماؤں اور منتخب ارکان کی جانب سے مرکزی قیادت سے مشاورت نہ ہونے کے تحفظات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
تاہم دوسری جانب پارٹی قیادت مسلسل 27 ستمبر کے احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے اعلان کو برقرار رکھے ہوئے ہےبیرسٹر گوہر نے بھی مارچ مقررہ تاریخ پر کرنے اور احتجاج کو پرامن رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
حکومت کا سخت مؤقف
دوسری جانب وفاقی حکومت نے 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو مارچ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔