سندھ حکومت کے تعاون سے تیار کی گئی فلم ’میرا لیاری‘ آسکر ایوارڈز کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہے، جسے پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر فلم آسکر ایوارڈز کی باضابطہ نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ پیش رفت سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات کے فلم بورڈ کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں صوبے میں فلم انڈسٹری کے فروغ، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران فلمی منصوبوں کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے ساتھ اشتراک، فلموں کی نمائش اور تقسیم سے متعلق جاری پیش رفت پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ اطلاعات کے تحت جاری فلمی منصوبوں کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مختلف او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور متعلقہ اداروں کے ساتھ فلموں کی نمائش اور تقسیم کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت فلم، ثقافت اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق فلمی صنعت نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے اور مثبت تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرتی ہے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا ہدف صوبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط فلم سازی مرکز بنانا ہے، تاکہ مقامی فلم سازوں، ہدایت کاروں اور فنکاروں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔
اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات کاشف گلزار شیخ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات معز پیرزادہ، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن، فلم بورڈ کے اراکین وقاص رضوی، سلیم خان، احتشام انصاری، رب نواز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر مستقبل کے فلمی منصوبوں اور تخلیقی شعبے کی ترقی کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔