آزاد کشمیر میں آج کس کا پلڑا بھاری؟ تیسرے مرحلے کی پولنگ شروع

آزاد کشمیر میں آج کس کا پلڑا بھاری؟ تیسرے مرحلے کی پولنگ شروع

آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے ضلع باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

تیسرے مرحلے میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 14 ایل اے 15 ایل اے 16 اور ایل اے 17 میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ان چار حلقوں میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جو اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

انتخابات کے تیسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 82 امیدوار میدان میں ہیں انتخابی حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ووٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ پولنگ اسٹیشن پر شناختی دستاویز کے ساتھ پہنچیں اور انتخابی عمل میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ پولنگ کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین ہوشیار، ستمبر تک چارجز کی تفصیل سامنے آگئی

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پونچھ اور سدھنوتی کے حلقوں میں انتخابات مؤخر کردیئے گئے ہیں ان حلقوں میں پولنگ کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پہلے دو مراحل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی کئی نشستوں پر کامیاب رہی ہے۔

انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے 9 نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیتیں جبکہ 4 نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ ان نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی 6 نشستوں پر کامیاب قرار پائی۔

اب تیسرے مرحلے میں باغ اور حویلی کے چار حلقوں کے نتائج بھی آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں کی مجموعی پوزیشن پر اثر انداز ہوں گے۔ بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ اس مرحلے کو سیاسی اعتبار سے مزید اہم بنا رہا ہے۔

پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے گی۔ انتخابی نتائج مرتب ہونے کے بعد تیسرے مرحلے میں کامیاب امیدواروں کی پوزیشن واضح ہوگی اور مجموعی انتخابی منظرنامہ مزید نمایاں ہوجائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں اور انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنائیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles