کیریبین جزیرے مارٹنیک میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے میں ایک بار پھر سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جس کے بعد ماہرین نے آتش فشاں کی نگرانی مزید سخت کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 سے 31 جولائی کے دوران ماؤنٹ پیلے کے قریب 124 آتش فشانی زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے یہ تعداد 45 تھی۔ جولائی کے پورے مہینے میں آتش فشاں کے قریب مجموعی طور پر 331 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔
ماؤنٹ پیلے ماضی میں بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہوچکا ہے۔ 1902 میں آتش فشاں کے بڑے دھماکے کے نتیجے میں شدید گرم گیسوں اور راکھ پر مشتمل بادل نے سینٹ پیئر شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ماہرین کے مطابق زیر زمین موجود میگما جب اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو اردگرد کی چٹانوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے باعث زلزلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی تعداد میں اضافہ لازماً آتش فشاں کے پھٹنے کی نشاندہی نہیں کرتا۔
ماہرین کے مطابق اگر ماؤنٹ پیلے میں بڑا دھماکا ہوتا ہے تو راکھ اور زہریلی گیسوں کے بادل شمالی مارٹنیک کے علاقوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ فضا میں بڑی مقدار میں راکھ پھیلنے کی صورت میں کیریبین خطے میں فضائی سفر بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ فی الحال ماہرین آتش فشاں کی سرگرمیوں اور زلزلوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔