پاکستانی پاپ موسیقی کی معروف گلوکارہ نازیہ حسن کی 26ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ اپنی منفرد آواز اور دلکش انداز کے باعث نازیہ حسن کو آج بھی ’’کوئین آف پاپ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ حسن نے محض 15 برس کی عمر میں فلم ’قربانی‘ کے گانے ’آپ جیسا کوئی‘ سے ایسی شہرت حاصل کی جس نے جنوبی ایشیا کی پاپ موسیقی کا نقشہ بدل دیا۔
1981 میں بھائی زوہیب حسن کے ساتھ ریلیز ہونے والا البم ’ڈسکو دیوانے‘ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول ہوا اور نازیہ حسن کی آواز سرحدوں سے باہر تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد ’بوم بوم‘، ’ینگ ترنگ‘ اور ’ہاٹ لائن‘ جیسے کامیاب البمز نے نازیہ اور زوہیب حسن کی جوڑی کو پاکستانی پاپ موسیقی کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔
نازیہ حسن صرف ایک کامیاب گلوکارہ ہی نہیں بلکہ ایک تعلیم یافتہ وکیل اور سماجی کارکن بھی تھیں۔ 1991 میں انہیں یونیسیف کی ثقافتی سفیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے سماجی کاموں میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ تاہم شہرت اور کامیابی کا یہ سفر زیادہ طویل نہ ہوسکا۔ نازیہ حسن کینسر کے مرض میں مبتلا رہیں اور طویل جدوجہد کے بعد 13 اگست 2000 کو لندن میں صرف 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
نازیہ حسن آج اس دنیا میں موجود نہیں، مگر ان کی آواز، گیت اور موسیقی آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ پاکستانی پاپ موسیقی میں ان کا نام ایک ایسے روشن باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکا۔