پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں، تاہم آٹو پالیسی کے حوالے سے آئی ایم ایف کے بعض اعتراضات تاحال برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت 2 کروڑ روپے تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے معاملے پر فی الحال کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد کیا جائے۔
حکومت پاکستان نے مذاکرات کے دوران اپنے موقف پر بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کا فیصلہ ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی ترغیب اور فروغ کے لیے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پر ریلیف سب کو نہیں ملے گا؟ آئی ایم ایف نے حکومت کو نیا فارمو لا بتا دیا
حکام کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے طے پانے والے معاہدے کے تحت 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو ’لگژری‘ قرار دے کر ان پر 25 فیصد سیلز ٹیکس مقرر کیا گیا تھا۔
مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو آٹو پالیسی سے متعلق اپنے موقف پر تفصیل سے آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ گفٹ اسکیم کے تحت برآمد کی جانے والی گاڑیوں کی ملکیت ایک سال تک تبدیل نہیں کی جا سکے گی۔
