بس بہت ہوگیا، کے پی کے لیے اب اہم فیصلوں کا وقت آچکا ہے،خواجہ آصف

بس بہت ہوگیا، کے پی کے لیے اب اہم فیصلوں کا وقت آچکا ہے،خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر صوبے میں جاری دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب بہت ہوچکا، خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ڈی آئی خان میں 5 افراد جاں بحق

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے، جبکہ اسی دوران خیبر پختونخوا کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جن میں 2 کسٹم اہلکار بھی شامل تھے،بیان میں کہا گیا کہ اس سنگین واقعے سے صوبائی کابینہ، وزیراعلیٰ سمیت، مکمل طور پر بے حس نظر آئی اور وہ اپنے سیاسی طور پر ناکام لانگ مارچ میں مصروف رہی۔

شہدا سے اظہار تعزیت نہ ہوسکا

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے ڈی آئی خان میں 5 بے گناہ افراد کے قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، نہ سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی گئی اور نہ ہی ان کے جنازوں میں شرکت کی گئی۔ حتیٰ کہ دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے متاثرہ خاندانوں کے گھروں تک جانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔

آئی جی اور چیف سیکرٹری طلب

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے برعکس وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر کی سکیورٹی میٹنگ میں شرکت کرنے پر سرزنش کرنے کے لیے اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :دہشت گردی کا ذمہ دار کون؟ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی اور دہشتگردوں کا گٹھ جو ڑ بے نقاب کردیا

عوام دہشت گردوں کے رحم پر

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ ایک ایسے صوبے میں جو مسلسل دہشت گردی کی زد میں ہے، وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ نے عوام کو مکمل طور پر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی وجہ سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

مزید برداشت نہیں

بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جاسکتی۔ خیبر پختونخوا کے عوام کا بہت خون بہایا جاچکا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ ملی بھگت اور سہولت کار ایکو سسٹم کے حوالے سے متعدد مثالیں اور شواہد موجود ہیں، جنہیں پاکستانی عوام گزشتہ تین برسوں کے دوران اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔

ماضی کا حوالہ

بیان میں مسلم لیگ ن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماضی میں نواز شریف، ان کا خاندان اور مسلم لیگ ن کی قیادت پی ٹی آئی کے دور حکومت میں قید رہی، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ ان پر عائد کیے جانے والے الزامات محض الزامات تھے۔

آئینی راستہ اختیار کیا

بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کی فرمائش پر لوگوں کو قید کیا جاتا رہا، لیکن مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹ میں اپنے کردار کو آئینی ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، ملک اور اداروں کو یرغمال نہیں بنایا اور عدالتوں و پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی۔

اہم فیصلوں کا وقت

سخت ردعمل میں کہا گیا کہ مسلم لیگ ن طالبان کی اتحادی نہیں بنی اور اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے۔ خیبر پختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں اور طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا،بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا اور ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔ Enough is enough، اب بہت ہوچکا۔

editor

Related Articles