خیبر پختونخوا میں بدامنی، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور مسلسل سیاسی احتجاج سے تنگ شہریوں نے صوبائی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے آئین کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایک حالیہ عوامی سروے میں شہریوں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی پالیسیوں، مبینہ کرپشن اور لانگ مارچز کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری وفاقی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں شہریوں نے صوبے کی موجودہ گھمبیر صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ یہ ملکی آئین کا حصہ ہے۔
شہریوں نے توجہ دلائی کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں، پولیس افسران اور جید علمائے کرام کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
عوام کا ماننا ہے کہ صوبے میں اب کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں رہا، جبکہ صوبائی حکومت حالات کو قابو کرنے کے بجائے محض دھرنوں اور احتجاجی سیاست میں الجھی ہوئی ہے جس سے انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
منشیات، کرپشن اور ممبران اسمبلی پر سنگین الزامات
نئے ضم شدہ 5 اضلاع کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مقامی باشندوں نے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
سروے میں حصہ لینے والوں کے مطابق ان اضلاع میں دہشتگردی کے ساتھ ساتھ منشیات کا کاروبار بھی بے قابو ہو چکا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض مقامی اراکین اسمبلی مبینہ طور پر کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور ان غیر قانونی سرگرمیوں کی درپردہ حمایت کر رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ ان تمام عناصر کا بلا تفریق کڑا احتساب ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انہیں اتنی کھلی چھوٹ کیوں دی گئی ہے، جبکہ مبینہ طور پر کئی منشیات فروش اور جرائم پیشہ عناصر ان ہی کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔
سیاسی انتشار کا معیشت اور ملکی امن پر اثر
ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عوام کی رائے انتہائی واضح تھی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ موجودہ لانگ مارچ اور مسلسل احتجاجی روش کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
محض سیاسی مفادات کے پیچھے لگ کر کیے جانے والے یہ اقدامات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کی معیشت اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
عوام کے مطابق اس سیاسی انتشار کا فی الفور خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ جب تک یہ لاقانونیت اور عدم استحکام برقرار رہے گا، دہشتگرد عناصر کو پنپنے کا موقع ملے گا اور ملک کا امن و امان مسلسل داؤ پر لگا رہے گا۔
خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کی لہر کی زد میں ہے۔ خاص طور پر سابقہ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد سے ان اضلاع میں انتظامی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
دوسری جانب، صوبائی حکومت کی زیادہ تر توانائیاں وفاق کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی تحریکوں کی منصوبہ بندی میں صرف ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے گورننس اور امن و امان کے بنیادی معاملات مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔
عوامی سطح پر گورنر راج اور ایمرجنسی کا مطالبہ دراصل اس گہری مایوسی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے جو مسلسل سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
جب عوام اپنے منتخب نمائندوں سے تحفظ اور گڈ گورننس کی امید کھو بیٹھتے ہیں، تو وہ ریاست کے انتہائی آئینی اقدامات کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کے قیام پر توجہ دینے کے بجائے وفاق پر چڑھائی کی حکمت عملی نے ایک سنگین انتظامی خلا کو جنم دیا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ جرائم پیشہ گروہ اور دہشتگرد عناصر اٹھا رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر سیاسی اور سیکیورٹی ترجیحات پر نظر ثانی نہ کی گئی تو صوبے میں امن عامہ کا بحران مزید گھمبیر ہو سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔