حج منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح، واجبات کی وصولی شروع

حج منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح، واجبات کی وصولی شروع

 وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج درخواستوں اور واجبات کی وصولی کے لیے حج منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح کردیا، جس کے ساتھ حج 2027 کے انتظامات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ نئے نظام کے تحت عازمین حج گھر بیٹھے رجسٹریشن، درخواست کی تکمیل، دستاویزات کی فراہمی اور واجبات کی ادائیگی سمیت مختلف مراحل مکمل کرسکیں گے۔

حج 2027 کے انتظامات ڈیجیٹل بنانے کا آغاز

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج 2027 کے انتظامات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر وزارت مذہبی امور نے نیشنل آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے حج کے پورے نظام کو اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

چار لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن مکمل

وفاقی وزیر کے مطابق اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد گھر بیٹھے حج رجسٹریشن مکمل کرچکے ہیں۔ رجسٹرڈ عازمین اب اپنی حج درخواست مکمل کرنے کے ساتھ پہلی قسط بھی ڈیجیٹل ذرائع سے گھر بیٹھے ادا کرسکیں گے۔

پاک حج ایپ اور حج پورٹل کے ذریعے سہولت

حج درخواست سے ادائیگی تک مختلف سہولیات پاک حج ایپ اور حج پورٹل کے ذریعے فراہم کی جارہی ہیں۔ اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد عازمین کو بینکوں کی قطاروں، غیر ضروری سفر اور کاغذی کارروائی سے نجات دلانا ہے، تاکہ حج درخواست کا عمل زیادہ آسان اور تیز بنایا جاسکے۔

سرکاری حج اسکیم کے لیے ایک لاکھ 7 ہزار 526 نشستیں

سردار محمد یوسف نے بتایا کہ حج 2027 کی سرکاری حج اسکیم کے لیے ایک لاکھ 7 ہزار 526 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ ان نشستوں پر عازمین کا انتخاب پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے رجسٹرڈ عازمین سے اپیل کی کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی حج درخواست مکمل کریں اور پہلی قسط بروقت ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام حج انتظامات میں شفافیت، سہولت اور آسانی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

حج سے متعلق اداروں کو ایک نظام سے منسلک کردیا گیا

تقریب کے دوران حج منیجمنٹ سسٹم کے مختلف فیچرز اور عازمین کے لیے دستیاب ڈیجیٹل سہولیات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے ذریعے وزارت مذہبی امور سمیت حج سے متعلق اہم اداروں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

اس مربوط نظام میں حبیب بینک، پاسپورٹ آفس اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عازمین کے کوائف کی تصدیق اور حج درخواست کے مختلف مراحل کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل کرنا ہے۔

درخواست سے دستاویزات کی تصدیق تک تمام مراحل آن لائن

نئے حج منیجمنٹ سسٹم کے تحت عازمین کی درخواست، ضروری دستاویزات کی تصدیق، واجبات کی ادائیگی اور درخواست کی پیشرفت کو ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے تحت مربوط کیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان سے ایک لاکھ 19 ہزار عازمین حج حجاز مقدس پہنچ گئے، فلائٹ آپریشن مکمل

حج درخواست کا عمل شروع کرنے کے لیے عازم کو پہلے اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اکاؤنٹ بنانے کے بعد ای میل، موبائل نمبر یا شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے نظام میں لاگ اِن کیا جاسکے گا۔

عازمین کو کون سی معلومات فراہم کرنا ہوں گی؟

درخواست کے دوران عازم کو روانگی کا شہر اور حج پیکیج اسکیم منتخب کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ذاتی معلومات، رابطے کی تفصیلات، قریبی عزیز اور آئی بین سمیت دیگر مطلوبہ معلومات درج کرنا ہوں گی۔

عازمین کو پاسپورٹ سائز تصویر سمیت ضروری دستاویزات بھی آن لائن اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔ اس طرح درخواست جمع کرانے کے لیے کاغذی کارروائی اور متعلقہ دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔

پاسپورٹ کی تفصیلات خودکار طور پر شامل ہوں گی

حج منیجمنٹ سسٹم میں پاسپورٹ ریکارڈ کی تصدیق کے لیے بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ شناختی کارڈ نمبر درج کرنے پر پاسپورٹ آفس کے نظام سے پاسپورٹ کا ریکارڈ حاصل کیا جاسکے گا اور تصدیق کے بعد پاسپورٹ کی تفصیلات درخواست میں خودکار طور پر شامل ہوجائیں گی۔

اسی طرح اگر عازم پاسپورٹ کے بایو پیج کی تصویر اپ لوڈ کرتا ہے تو حج منیجمنٹ سسٹم پاسپورٹ آفس کے ریکارڈ سے اس کی تفصیلات کی تصدیق کرے گا۔ اس سہولت سے درخواست کے عمل میں آسانی پیدا ہونے کے ساتھ غلطیوں کے امکانات بھی کم ہونے کی توقع ہے۔

خاندان اور گروپ کی صورت میں بھی سہولت

نئے نظام میں خاندان یا گروپ کی صورت میں حج پر جانے والے افراد کے لیے بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ مختلف افراد اپنی الگ الگ حج درخواستوں کو ایک ہی گروپ میں شامل کرسکیں گے، جس سے گروپ کی صورت میں سفر کرنے والے عازمین کے لیے انتظامی امور کو آسان بنایا جاسکے گا۔

حج واجبات کی ادائیگی کے لیے متعدد ذرائع

حج واجبات کی ادائیگی کے لیے بھی عازمین کو مختلف ڈیجیٹل ذرائع فراہم کیے گئے ہیں۔ عازمین ون لنک، پیس آئی ڈی اور کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے حج واجبات ادا کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ ڈیجیٹل چالان کے ذریعے اے ٹی ایم یا بینک برانچ سے ادائیگی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ اس طرح عازمین اپنی سہولت کے مطابق ادائیگی کا طریقہ منتخب کرسکیں گے۔

درخواست کی صورتحال بھی گھر بیٹھے معلوم ہوگی

 یہ بھی پڑھیں :لاکھوں عازمین حج کا منیٰ میں قیام ، فضا لبیک اللّٰہم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھی

حج درخواست مکمل کرنے کے بعد عازمین ٹریکر کے ذریعے اپنی درخواست کی صورتحال دیکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ ادائیگی سے متعلق معلومات بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حاصل کی جاسکیں گی، جس سے عازمین کو اپنی درخواست کے مختلف مراحل سے باخبر رہنے میں سہولت ملے گی۔

شفاف اور آسان حج نظام کا مقصد

وزارت مذہبی امور کے مطابق حج منیجمنٹ سسٹم کا بنیادی مقصد عازمین کو درخواست جمع کرانے سے لے کر واجبات کی ادائیگی اور دیگر اہم مراحل تک ایک جامع، آسان اور شفاف ڈیجیٹل سہولت فراہم کرنا ہے۔

نئے نظام کے ذریعے حج انتظامات کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ مختلف سرکاری اداروں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے سے عازمین کے کوائف کی تصدیق اور درخواستوں کی نگرانی کا عمل بھی زیادہ منظم بنانے کی توقع ہے۔

سوشل میڈیا کے لیے کلک ایبل سرخیاں

editor

Related Articles