حکومت کی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جاری سیاسی فاصلے کم ہونے کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور برف پگھلنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کی مرکزی قیادت ایک میز پر بیٹھ گئی طویل ملاقات میں اہم قومی سیاسی اور پارلیمانی امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں دونوں جماعتوں کے قائدین میں اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات قانون سازی اور پارلیمانی معاملات سمیت اہم سیاسی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ملاقات کے بعد دونوں جانب سے قانونی اور پارلیمانی امور پر رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا گیا۔
حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی اور دیگر رہنما شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کے دوران حکومت کی جانب سے اہم قومی پارلیمانی اور سیاسی معاملات میں نظر انداز کیے جانے کے شکوے اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے لیے حکومت کے ساتھ اسی انداز میں چلنا مشکل ہوگا۔
پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات سامنے رکھے اور مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ حکومتی وفد کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس شواہد فراہم کرتی ہے تو تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔
دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطے اس وقت تیز ہوئے جب گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتی شخصیات نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔
ملاقات میں حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔ حکومتی حلقوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر واضح کیا تھا کہ اہم قانون سازی کے عمل میں دونوں اتحادی جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
اس کے اگلے ہی روز اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سطح پر ہونے والی اہم ملاقات کو دونوں جماعتوں کے درمیان برف پگھلنے اور سیاسی فاصلے کم ہونے کی ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں اتحادی ہیں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
طویل بیٹھک کے بعد دونوں جماعتوں نے قانونی اور پارلیمانی امور پر مسلسل رابطے میں رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ چلنے پر اتفاق کیا جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں بڑھنے والی سیاسی دوریاں اب کم ہونا شروع ہوگئی ہیں اور دونوں اتحادی جماعتیں اہم قانون سازی سمیت پارلیمانی معاملات پر دوبارہ مل کر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں