وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹیلر ایپ کا اجرا کر دیا، چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس سکیم آسان

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹیلر ایپ کا اجرا کر دیا، چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس سکیم آسان

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایک اہم نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریٹیلر ایپ کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس اسکیم کو انتہائی آسان اور اختیاری بنایا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نفاذ سے ملکی معیشت میں مکمل شفافیت لائی جا سکے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے ڈیجیٹل نظام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

معاشی شمولیت اور پالیسی سازی کا عمل

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ سکیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشاورتی عمل کو انتہائی مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات اور کاروباری شعبوں کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی پالیسی سازی کی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے کیونکہ کسی ایک طبقے کو نظرانداز کر کے ریاست کا نظام نہیں چلایا جا سکتا، جبکہ 25 سے 26 کروڑ آبادی کے ملک کو ایک آسان اور بہتر نظام فراہم کرنا حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔

ٹیکس سکیم کی خصوصیات اور تاجر برادری سے مشاورت

وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ چھوٹے دکاندار چاہیں تو اس نئی سکیم کے بجائے اپنے معمول کے عام ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ اس سکیم میں چھوٹے دکانداروں اور دیگر بڑے کاروباری طبقات کے درمیان واضح تفریق رکھی گئی ہے تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کا اعلان 5 جون کو کیا گیا تھا اور تاجر برادری کی بھرپور مشاورت کے بعد اب اس کا عملی آغاز ہو چکا ہے۔

واضع رہے اس پوری پیشرفت کا پس منظر یہ ہے کہ حکومت طویل عرصے سے ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ریٹیل سیکسر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کوشاں رہی ہے، جس کے لیے تاجروں کے ساتھ متعدد دور کی مذاکرات کیے گئے۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ جو لوگ اس آسان سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق آئندہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت کا بنیادی مقصد تمام کاروباری طبقات کو قومی ٹیکس کے دائرے میں لانا اور اس عمل میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا تعاون یقینی بنانا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کو درپیش 2 بڑے چیلنجز کون سے ہیں؟، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتا دیا

وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ریٹیلر ایپ کا اجراء اور آسان ٹیکس سکیم کا نفاذ ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی سمت میں ایک انتہائی اہم قدم ہے۔

طویل عرصے سے تاجر برادری اور ایف بی آر کے درمیان ٹیکس کے دائرہ کار کو لے کر کشمکش چلی آ رہی ہے، اور اس اختیاری سکیم کے ذریعے حکومت نے نرمی کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔

 تاہم، اصل چیلنج اس ڈیجیٹل نظام کا نفاذ اور چھوٹے دکانداروں کا رضاکارانہ طور پر اس میں شامل ہونا ہے۔ اگر اس عمل کو شفاف طریقے سے آگے بڑھایا گیا تو نہ صرف ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

Related Articles