محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تفتیشی ٹیم کی 18 ستمبر کو پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے خودکش دھماکے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تفتیش کے دوران دہشت گردوں کے حملے تک پہنچنے کے طریقہ کار سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق دہشت گرد بارود سے بھری گاڑی اور رکشے کے ذریعے پولیس لائنز تک پہنچے ، خودکش بمبار رکشے میں سوار تھا، جبکہ دو دیگر دہشت گرد موٹرسائیکل پر پولیس لائنز تک پہنچے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملے کیلئے آئی ای ڈیز، دستی بم اور بھاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لائے تھے ، تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملے سے قبل پولیس لائنز کی کئی مرتبہ ریکی کی گئی تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں ، سہولت کاروں میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کو مکان فراہم کرنے اور انہیں پولیس لائنز تک رسائی دلوانے والے افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے سے متعلق حاصل کیے گئے بعض اہم شواہد فارنزک تجزیے کیلئے بھجوائے گئے ہیں، جن کی رپورٹس تحقیقات میں مزید پیش رفت کیلئے اہم قرار دی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔