غربت میں زندگی گزارنے والے 71 سالہ شخص کو برسوں بعد معلوم ہوا کہ اس کے پنشن اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 24 ہزار یوان سے زائد رقم موجود ہے۔
چین میں 71 سالہ ایک شخص کی قسمت اس وقت اچانک بدل گئی جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے پنشن اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان جمع ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق ستمبر 2026 کے آخر میں اس شخص کو ایک بینک کارڈ موصول ہوا جو اس کے پنشن اکاؤنٹ سے منسلک تھا۔ کارڈ کے ذریعے اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے پنشن کی رقم جمع ہورہی تھی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اسے برسوں تک اس رقم کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں تھا۔ 71 سالہ ریو نے اس موقع پر کہا کہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ ہوگا۔ اس نے حکام کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا۔
30 سال ملازمت کے بعد زندگی بدل گئی
ریو نے اپنی زندگی کے تقریباً 30 سال حکومت کے زیر انتظام ایک دکان میں کام کرتے ہوئے گزارے۔ 2000 کی دہائی میں اسے معاوضہ دے کر ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی رقم زیادہ عرصے تک اس کے پاس نہ رہ سکی۔ مالی مشکلات بڑھتی گئیں، وہ قرض میں ڈوب گیا اور رشتے داروں کے ساتھ بھی اختلافات پیدا ہوگئے۔
بالآخر اس نے کباڑ جمع کرکے گزر بسر شروع کردی۔ ریو گزشتہ 21 سال سے صوبہ ہونان کے علاقے چنگڈو میں کباڑ جمع کرکے زندگی گزار رہا تھا اور اسی دوران اس کی مالی مشکلات بھی برقرار رہیں۔
2024 کے موسم سرما میں مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کو معلوم ہوا کہ ریو ایک تباہ شدہ عمارت میں رہ رہا ہے۔ حکام نے اسے سرکاری پناہ گاہ منتقل ہونے کی پیشکش کی، تاہم ریو نے ابتدا میں یہ تجویز قبول نہیں کی۔
بعد میں حکام کی جانب سے اسے روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا فراہم کی جاتی رہیں۔ وقت کے ساتھ ریو نے حکومتی پناہ گاہ منتقل ہونے پر رضامندی ظاہر کردی اور اپنی ذاتی معلومات بھی حکام کو فراہم کردیں۔ اسی دوران حکام کو اس کی پنشن کے بارے میں بھی معلومات ملیں۔
دس سال سے زیادہ کی پنشن اکٹھی ہوتی رہی
چین کی ریٹائرمنٹ پالیسی کے تحت ریو 2015 میں پنشن حاصل کرنے کی عمر کو پہنچ چکا تھا۔ اس کی ماہانہ پنشن تقریباً 3700 یوان تھی۔ گزشتہ 10 سال سے زیادہ عرصے کے دوران یہ رقم اس کے پنشن اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی اور مجموعی رقم 4 لاکھ 24 ہزار یوان سے تجاوز کرگئی۔
غربت کی وجہ سے ریو کے پاس موبائل فون تک نہیں تھا، اس لیے اسے اپنی پنشن کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں مل سکی۔ جب حکام نے اسے بینک کارڈ فراہم کیا تو پہلی بار اسے معلوم ہوا کہ اس کے نام پر اتنی بڑی رقم جمع ہوچکی ہے۔
اب نئی زندگی شروع کرنے کا ارادہ
اچانک ملنے والی اس رقم کے بعد ریو نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ وہ چنگڈو میں ایک فلیٹ کرائے پر لے گا اور نسبتاً بہتر حالات میں زندگی گزارے گا۔ 21 سال تک کباڑ جمع کرکے زندگی گزارنے والے ریو کے لیے یہ رقم صرف دولت نہیں بلکہ ایک ایسی سہولت ہے جس کا اسے برسوں سے انتظار بھی نہیں تھا۔