خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نہیں چاہتے، لگی تو ذمہ داروزیراعلیٰ ہوں گے، بلاول بھٹو

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نہیں چاہتے، لگی تو ذمہ داروزیراعلیٰ ہوں گے، بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی حامی نہیں، تاہم ان کے بقول وزیراعلیٰ کا طرزِ عمل ایسے حالات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ کر مذاکرات اور پارلیمانی عمل کا حصہ بنے۔

بلدیہ ٹاؤن، ضلع کیماڑی میں سپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گورنر راج ایک آئینی اور قانونی راستہ ہے، جسے آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا گورنر راج کیوں چاہتے ہیں؟

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تجویز دی، جسے قبول کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی جماعت ایمرجنسی نافذ کرنے کی جلدی میں ہوتی تو گورنر کے خط پر صدر مملکت یہ اقدام کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے درپیش صورتحال کے باعث ملک جنگی حالات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کردار بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ان کے بقول، اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہوئی تو اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ ہوں گے۔

ؤپی ٹی آئی مذاکرات اور پارلیمانی عمل میں حصہ لے

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مذاکرات ان کی جماعت کی سیاسی سوچ کا بنیادی حصہ ہیں اور سیاسی مسائل کا حل بات چیت سے نکل سکتا ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی کامیابی کی امید ظاہر کی اور کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا رویہ مذاکرات کی کامیابی میں اہم ہوگا۔

بلاول بھٹو نے الزام لگایا کہ سیاسی اتفاق رائے کی جانب پیش رفت کے باوجود ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے مکالمے کے بجائے منفی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان خود تحریک انصاف کو ہو رہا ہے اور مسلسل دھرنوں کی سیاست سے اس کے کارکن مایوس ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی کو انتخابی اصلاحات کے عمل میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعت اگر اصلاحاتی کمیٹی میں شامل نہیں ہوگی تو آئندہ انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے اپنا کردار کیسے ادا کرے گی؟ انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر بھی تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعلیٰٰ سہیل آفریدی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرد یا

بانی پی ٹی آئی کی قید کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آج جیل میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ہمیشہ جیل میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے 14 سال قید کاٹی، تاہم اگر تحریک انصاف کی سیاست اسی سمت میں جاری رہی تو بانی پی ٹی آئی یہ ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں۔

کراچی کے نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں پر زور

سپورٹس کمپلیکس کے افتتاح پر بلاول بھٹو نے کراچی کے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی انہیں کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ٹی پی ون پانی کے منصوبے اور تھرکول بلاک ٹو کے تیسرے مرحلے کے افتتاح کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی میں ترقی اور مثبت سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ مخالف سیاسی قوتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں شہر کے نوجوانوں کو نفرت، تقسیم اور جرائم کی طرف دھکیلا گیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے مشکل حالات سے شہر کو نکال کر امن اور ترقی کا سفر شروع کیا۔

نئے صوبوں کے لیے عوامی رضامندی ضروری ہے

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں عوام صوبہ چاہتے ہیں وہاں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، لیکن جہاں عوام اس کے حق میں نہیں وہاں ان پر فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مصطفیٰ کمال، محسن نقوی اور تاجر برادری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے حامی عوام کے سامنے اپنا مؤقف رکھیں اور انہیں قائل کریں۔

عوامی ریلیف سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو سہولت دینا چاہتے ہیں، تاہم اگر لوگوں تک ریلیف نہیں پہنچ رہا تو اس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔

Related Articles