حساب کا وقت آ گیا، عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے والے بھی بھگتیں گے، امیر مُعظم کے انکشافات

حساب کا وقت آ گیا، عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے والے بھی بھگتیں گے، امیر مُعظم کے انکشافات

معروف قانونی و سیاسی تجزیہ کار ایڈوکیٹ امیر مُعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو آج اپنے ماضی کے فیصلوں اور سیاسی حکمتِ عملی کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے، جبکہ ان کا ساتھ دینے والے دیگر رہنماؤں کو بھی اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ 

آزاد ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج، پارٹی کے اندرونی اختلافات اور کے پی حکومت کی موجودہ صورتحال پر اہم انکشافات کیے ہیں۔

ایڈوکیٹ امیر معظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کو شدید اندرونی انتشار کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کا گھیراؤ تیز کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثرات سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن پر پڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبر پختونخوا کا پی ٹی آئی کو چیلنج، لانگ مارچ صوابی سے گزار کر دکھائیں

انہوں خبر دار کرتےہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی اور قانونی صورتحال کا سب سے بڑا سیاسی نقصان بھی سہیل آفریدی اور کے پی حکومت کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

کے پی میں’ایمرجنسی اور گورنر راج‘ کا نیا کاک ٹیل فارمولا

خیبرپختونخوا کی انتظامی اور قانونی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا ایک نیا کاک ٹیل فارمولا تیار کیا جا رہا ہے۔

اس مجوزہ آئینی و انتظامی فارمولے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کے تحت کے پی اسمبلی کو برطرف یا تحلیل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے اپنی جگہ برقرار رکھتے ہوئے قانون سازی کے اختیارات سے محروم کر دیا جائے گا، جس کے بعد صوبائی حکومت اور اس سے جڑے سیاسی عہدیدار عملاً مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔

پی ٹی آئی کا اندرونی انتشار اور ترجمانی کا بحران

تحریک انصاف کے اندرونی امور اور تنظیمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ امیر معظم نے بتایا کہ پارٹی اس وقت شدید عدم اتحاد اور دھڑے بندی کا شکار ہے۔

اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی جانب سے مرکزی ترجمان بنانے کا براہِ راست حکم اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود، پارٹی کے اندرونی دباؤ اور کشمکش کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

علی امین گنڈاپور کے رابطے اور صوبائی سیاست میں الٹ پھیر

ایڈوکیٹ امیر معظم نے مزید اشارہ دیا کہ ایک طرف تو وفاق کی جانب سے قانونی و آئینی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے تبدیل ہوتے موقف اور حالیہ سیاسی رابطوں سے بھی صوبائی سیاست میں بڑے الٹ پھیر کے واضح امکانات ظاہر ہو رہے ہیں، جن کا براہِ راست اثر سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن پر پڑے گا

Related Articles