نمونیا یا طاعون وائرس، روس کے سائبیریا خطے میں لیبارٹری ورکر کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے صحت کے اداروں کا فوری نوٹس، بارڈر الرٹ جاری
Home - آزاد انتخاب - نمونیا یا طاعون وائرس، روس کے سائبیریا خطے میں لیبارٹری ورکر کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے صحت کے اداروں کا فوری نوٹس، بارڈر الرٹ جاری
روس کے سائبیریا میں طاعون یا نمونیا کے ایک مشکوک واقعے کے تناظر میں وفاقی وزارتِ صحت نے پاکستان میں اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم قرار دے دیا ہے۔
وزارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملک کے تمام داخلی راستوں پر بارڈر ہیلتھ سروسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت اس بیماری کی تشخیص کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے تصدیق کی ہے کہ وزارت اور قومی ادارہ صحت دونوں موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے پاس اس مشکوک واقعے کے حوالے سے ابھی تک مکمل معلومات موجود نہیں ہیں۔
روس کا سائبیریا واقعہ اور حفاظتی اقدامات
یہ خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب روس کے سائبیریا اور مشرقِ بعید کے ارکتسک اینٹی پلگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 28 سالہ لیبارٹری ورکر داریا شپیلووا 2 اکتوبر کو انتقال کر گئیں۔
روسی حکام نے ابتدائی طور پر ان کے قریبی رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ تقریباً 5,000 لیبارٹری ٹیسٹس کے بعد 90 فیصد افراد کو رہا کر دیا گیا کیونکہ ان کے رابطوں میں طاعون کا کوئی کیس نہیں پایا گیا۔
بدھ کو روس کے ہیلتھ ریگولیٹر نے واضح کیا کہ کوئی بھی خطرہ موجود نہیں ہے اور احتیاطی تدابیر کو کم کیا جا رہا ہے۔
موت کی اصل وجہ اور طاعون کی طبی نوعیت
داریا شپیلووا کی موت کی طاعون کے کیس کے طور پر باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اگرچہ ایک علاقائی گورنر نے ابتدائی طور پر اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو سکتی ہیں، تاہم روس کے ہیلتھ واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ وہ نامعلوم قسم کے نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔
طاعون کا مرض بیکٹیریم یرسینیا پیسٹس کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ متاثرہ پسو کے کاٹنے یا سانس کے ذرات کے ذریعے انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ابتدائی تشخیص اور اینٹی بائیوٹک علاج سے اس انفیکشن کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جب بھی کسی خطے میں متعدی یا خطرناک بیماریوں کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے، تو پاکستان جیسے ممالک میں سرحدی سلامتی اور طبی اداروں کی طرف سے فوری حفاظتی اقدامات اٹھانے کی روایت رہی ہے۔
ماضی میں بھی عالمی وبائی امراض کے پھیلاؤ کے دوران ملکی داخلی راستوں اور قرنطینہ کے نظام کو متحرک کیا جاتا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے مؤثر انداز میں نبرد آزما ہوا جا سکے۔
روس کے اس واقعے اور پاکستانی صحت کے اداروں کے بروقت ردعمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی اداروں کی جانب سے حتمی معلومات کی عدم موجودگی کے باوجود پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا صحت عامہ کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
کسی بھی بیرونی خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے سائنسی اعداد و شمار اور بارڈر سکریننگ کا مربوط نظام انتہائی ضروری ہے۔ طاعون جیسی متعدی بیماریوں کے تناظر میں جہاں بیکٹیریم کی نوعیت اور ترسیل کے ذرائع پہلے سے معلوم ہوں، وہاں لیبارٹری کی اعلیٰ تشخیصی صلاحیتیں ہی کسی بھی ممکنہ خطرے کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کی سب سے بڑی ضمانت ہوتی ہیں۔